Thus my inner sight speaks.
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۴۹
اس بنا پر میری یہ رائے ہے کہ مشن میں وہی آدمی شرکت کرے جو مشن کلچر کے اس مبنی بر توحید تصور کو مانتا ہو۔ اگر کسی شخص کے اندر یہ مزاج نہ ہو تو اُس کو ہرگز مشن میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔ 3- اسلامی تعلیمات میں دو چیزیں سب سے زیادہ اہم ہیں۔ توحید اور تزکیہ۔ توحید اللہ کی نسبت سے ہے اور تزکیہ بندے کی نسبت سے۔ ان دونوں کے دو درجے ہیں۔ ایک ابتدائی درجہ اور دوسرا اعلیٰ درجہ۔ میرے اپنے مطالعے کے مطابق، خواص صحابہ ان دونوں کے معاملے میں اعلیٰ درجے تک پہنچے تھے۔ لیکن امت کی بعد کی تاریخ میں، میرے علم کے مطابق، شاید کوئی بھی شخص ان دونوں معاملات میں اعلیٰ درجے تک نہ پہنچ سکا۔ یہ رائے میں نے بعد کے لوگوں کی اُن تحریروں سے قائم کی ہے جو کتابوں میں موجود ہیں۔ توحید کا اعلیٰ معیار یہ ہے کہ بندے کے اندر اللہ سے حب شدید اور خوف شدید پیدا ہو جائے۔ میرے علم کے مطابق، امت کے بعد کے افراد میں خوف شدید کی مثالیں تو ملتی ہیں، لیکن حب شدید کی مثالیں نہیں ملتیں ۔
تزکیہ کی بنیاد معرفت ہے۔ جتنا زیادہ معرفت اتنا زیادہ تزکیہ۔ میرے علم کے مطابق، بعد کے زمانے کے لوگوں نے اعلیٰ درجے کی معرفت ربانی کا تجربہ نہیں کیا۔ تزکیہ پر جو کتابیں یا مضامین لکھے گئے ہیں، اُن میں فنی بحثیں تو بہت ہیں، لیکن اُن میں عارفانہ تجزیہ نہیں۔ تزکیہ کا موضوع انسانی نفسیات سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے تزکیہ کا اعلیٰ ادراک وہی شخص کر سکتا ہے جو انسانی نفسیات کو گہرائی کے ساتھ جانتا ہو۔
سوال
مجھے 1998 سے آپ کی کتب اور الرسالہ سے استفادے کا موقع مل رہا ہے۔ الحمد للہ آپ کی تحریروں سے بے بہا ایمانی و روحانی، علمی و فکری و اخلاقی منفعت حاصل کرتا رہا ہوں۔ آپ کا لٹریچر میرے بہترین فکری و عملی رہنماؤں میں سے ہے۔ بالخصوص اس میں روحانیت و ربانیت کی جو غیر معمولی غذا ہے، اُس سے میرے اندر بندگی اور مالک کائنات کے استحضار کا گہرا ذوق بیدار ہوا ہے جو میری زندگی میں سب سے زیادہ قیمتی اثاثہ ہے۔ اس کے علاوہ دین انسانیت کی وسعت و جامعیت کا جو ادراک
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues