But where does Allah get all these powers from?
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۴، صفحہ ۵۲
یہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ زبان کا لہجہ ابتدائی عمر میں بن جاتا ہے۔ کوئی آدمی بعد کی عمر میں اپنے لہجے کو بدلنے پر قادر نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ فیصلہ ہوا کہ جہاں تک قرآن کی کتابت کا معاملہ ہے، اُس قریش کے اسٹینڈرڈ لہجے کے مطابق لکھا جائے گا، البتہ رعایتی طور پر لوگوں کو اجازت ہوگی کہ لوگ اپنے اپنے قبیلے کے لہجے کے مطابق، قرآن کو پڑھیں۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو مذکورہ حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فاقرؤاما تیسمر منہ۔
سوال
عرض ہے کہ میرا ایک پوتا 'سیف احمد سیف' امریکا میں ہے۔ اس کی عمر چھ سال ہے۔ وہ جدید تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم بھی حاصل کر رہا ہے۔ حال ہی میں اس نے اپنے والدین سے ایک سوال کیا۔ تناظر یہ تھا کہ والدین بچے کے سامنے اللہ تعالیٰ کی قدرتِ وقوت کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے۔ بچے نے دفعتاً یہ سوال پوچھا:
But where does Allah get all these powers from?
انھوں نے یہ سوال مجھے بھیجا ہے۔ میں الرسالہ پڑھتا ہوں۔ آپ ”سوال وجواب“ کے کالم میں لوگوں کے سوالات کے جوابات لکھتے ہیں۔ میں اسی کالم کے حوالے سے یہ سوال آپ کی خدمت میں ارسال کر رہا ہوں اس امید کے ساتھ کہ ایسا جواب مل جائے گا جس سے وہ بچہ مطمئن ہو سکے۔ جو جواب آپ تحریر فرمائیں گے، میں اسے امریکا بھیج دوں گا۔ اور دوسرے قارئین بھی اس سے استفادہ کر سکیں گے۔ (عزیز احمد، اسوسییٹ پروفیسر ریٹائرڈ، ایس ایس وی کالج، ہاپوڑ، یوپی) جواب یہ سوال ایک غیر منطقی (illogical) سوال ہے۔ منطقی طور پر اس معاملے میں اصل مسئلہ ایک موجود واقعے کی توجیہہ (explanation) کا ہے، نہ کہ خود موجود واقعے کا سبب تلاش کرنے کا۔ اس معاملے میں بعد موجود واقعہ (post-existing event) پر غور کرنے سے کنفیوزن ختم ہوتا ہے، جب کہ قبل موجود واقعہ (pre-existing event) صرف کنفیوزن کو بڑھاتا ہے۔ اس معاملے میں
‹ Previous page Next page › Contents of April 2014 All issues