Al-Risala · May 2014 · page

جنت کی نرسری

الرسالہ، مئی ۲۰۱۴

موجودہ دنیا میں جو انسان پیدا ہوتا ہے، وہ گویا نرسری کا ایک پودا ہے۔ ایک محدود مدت تک وہ اس ابتدائی دنیا میں رہتا ہے۔ اس دوران اُس کے ساتھ مختلف قسم کے حالات گزرتے ہیں۔ یہ حالات گویا اُس کے لیے تربیتی کورس (training course) ہیں۔ یہ حالات اس کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرے۔ موت اس تربیتی کورس کے خاتمے کا اعلان ہے۔ جو انسان اس ملی ہوئی مدت کے دوران اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کرلے، اس کو نرسری سے نکال کر دوسری دنیا میں ابدی طور پر بسا دیا جاتا ہے۔ اور جو لوگ مطلوب انداز میں اپنی تعمیر نہ کرسکیں، اُن کو نرسری سے نکال کر باہر پھینک دیا جائے گا۔

اس دنیا کے لیے خالق کا نشانہ اجتماعی نہیں ہے، بلکہ انفرادی ہے۔ اس اعتبار سے، یہ کہنا درست ہوگا کہ موجودہ دنیا تعمیر نظام کے لیے نہیں ہے، بلکہ وہ تعمیر شخصیت کے لیے ہے۔ یہاں صرف تعمیر شخصیت ممکن ہے، آڈیئل معنوں میں تعمیر نظام یہاں سرے سے ممکن ہی نہیں۔ انسانی زندگی کی یہی تعبیر صحیح تعبیر ہے۔ اس کے صحیح ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ اس کو ماننے کی صورت میں زندگی کے تمام سوالات کا قابل فہم جواب مل جاتا ہے:

With this description of human life, everything falls into place. ایک حدیث تخلیق کا یہ منصوبہ قرآن وحدیث میں مختلف انداز سے بتایا گیا ہے۔ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ اس سلسلے کی دور وایتیں یہ ہیں: 1 - عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لقيت إبراهيم ليلة أسرى بي - فقال يا محمد، أقرئ أمتك مني السلام، وأخبرهم أن الجنة طيبة التربة، عذبة الماء، وأنها قيعان، وأن غراسها: سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر - (سنن الترمذي، رقم الحديث: 105)

‹ Previous page Next page › Contents of May 2014 All issues

Printed page