جنت کی نرسری
الرسالہ، مئی ۲۰۱۴
حضرت عبد اللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ معراج کی رات میں میری ملاقات حضرت ابراہیم سے ہوئی ۔ انھوں نے کہا کہ اے محمد، اپنی امت کو میرا سلام پہنچا دو۔ اور اُن کو بتاؤ کہ جنت کی مٹی بہت پاکیزہ مٹی ہے، اس کا پانی بہت میٹھا ہے اور وہ ایک ہموار میدان ہے۔ اس کا پودا سبحان الله، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر ہے۔ 2- عن أبي أيوب الأنصاري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة أسري به مرّ على إبراهيم، فقال من معك يا جبريل، قال: هذا محمد - فقال له إبراهيم: مرْ أمتك فليكثروا من غراس الجنة، فإن تربتها طيبة و أرضها واسعة - قال: وما غراس الجنة، قال: لاحول ولاقوة إلا بالله۔ (مسند أحمد، رقم الحديث: 7966)
حضرت ابو ایوب انصاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معراج کی رات میں حضرت ابراہیم کے پاس سے گزرے ۔ انھوں نے کہا کہ اے جبریل، یہ تمھارے ساتھ کون ہیں۔ جبریل نے کہا کہ یہ محمد ہیں۔ حضرت ابراہیم نے آپ سے کہا کہ اپنی امت کو بتاؤ کہ وہ جنت میں کثرت سے پودے لگائیں، کیوں کہ جنت کی مٹی بہت پاکیزہ ہے اور اس کی زمین بہت وسیع ہے۔ آپ نے پوچھا کہ جنت کا پودا کیا ہے؟ حضرت ابراہیم نے کہا کہ : لا حول ولا قوة إلا بالله۔ مذکورہ روایات میں جنت کے لیے دو الفاظ استعمال ہوئے ہیں— قيعان اور ارض واسعہ۔ دونوں کا مفہوم ایک ہے، یعنی وسیع اور ہموار زمین۔ یہ تمثیل کی زبان میں جنت کی اصل حقیقت کا بیان ہے۔ اس معاملے کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ نے یہ چاہا کہ وہ ایک اعلیٰ مخلوق پیدا کرے اور پھر اس مخلوق کو وہ اپنی اعلیٰ ترین نعمت سے نوازے۔ اس منصوبے کے تحت، اللہ نے ایک معیاری دنیا بنائی۔ یہ دنیا اپنی وسعت کے اعتبار سے، اپنے آپ میں ایک مکمل کائنات تھی۔ اس میں ہر قسم کے اعلیٰ امکانات رکھے گئے تھے۔ اس میں نہ صرف ہر قسم کی نعمتیں تھیں، بلکہ اس میں اعلیٰ ترقی کے ابدی مواقع موجود تھے۔
اس کے بعد اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو مکمل آزادی عطا کی۔ جنت اِسی انسان کے