Al-Risala · May 2014 · page

ابدی عمر، ابدی صحت، ابدی امن

الرسالہ، مئی ۲۰۱۴

اس وجود کے حواس (senses) معطل ہوتے رہتے ہیں، وغیرہ۔

ایسی حالت میں انسان کو اگر جنت اس طرح ملے کہ جنت میں ہر قسم کا سامان عیش تو کامل طور پر موجود ہو، لیکن انسان کا وجود یہی موجودہ دنیا والا وجود ہو، جو کہ ہر قسم کی کمزوریوں (weaknesses) کا شکار ہوتا ہے، اس کو ہر قسم کی محدودیت (limitations) لاحق ہوتی ہے، اس کو بدستور جسمانی زوال (physical degeneration) پیش آتا رہے، جیسا کہ وہ اس دنیا میں پیش آتا تھا۔ اگر ایسا ہو تو انسان کے لیے جنت اینٹ پتھر کا ایک ڈھیر بن جائے گی، وہ اس کے لیے لذت اور خوشی کی جگہ ثابت نہ ہوگی۔ جنت انسان کے لیے صرف اُس وقت جنت ہے جب کہ وہ خود جنت سے انجوائے کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔

اگر انسان کے اپنے اندر جنت سے انجوائے کرنے کی طاقت نہ ہو تو جنت اس کے لیے بلاشبہ ایک مصیبت خانہ ہوگی، نہ کہ کوئی عیش خانہ۔ جنت اسی طرح اس کے لیے دارالكبد ہوگی، جیسا کہ موجودہ دنیا اس کے لیے دارالكبد تھی۔ اس کا تقاضا ہے کہ اہل جنت کو آخرت میں جنت کے ساتھ ایک نیا وجود بھی عطا کیا جائے، ایسا وجود جو ابدی عمر رکھتا ہو، اس کو ایسی صحت ملے جو بھر پور صحت (health in full swing) کی حامل ہو۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص موجودہ دنیا کی زندگی میں اپنے آپ کو روحانی اعتبار سے، مطہر شخصیت (spiritually purified personality) کی حیثیت سے ڈیولپ (develop) کرے، اس کو آخرت میں اللہ کے خصوصی عطیہ کے طور پر جسمانی اعتبار سے، مطہر شخصیت (physically purified personality) حاصل ہوگی۔ ایسی شخصیت اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کے اعتبار سے، کامل صفات کی حامل ہوگی۔ وہ اس قابل ہوگی کہ جنت کی نعمتوں سے بھر پور طور پر حظ (enjoyment) حاصل کرے، وہ کسی بھی پہلو سے محدودیت (limitation) اور ڈس ایڈوانٹج (disadvantage) میں مبتلا نہ ہو، وہ ابدی طور پر کامل فل فل مینٹ (fulfilment) کے احساس میں جیتا رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2014 All issues

Printed page