ابدی عمر، ابدی صحت، ابدی امن
الرسالہ، مئی ۲۰۱۴
انسان بن جائے ۔ جو آدمی قبل از موت دور حیات میں ان کلمات کے تقاضے کے مطابق، اپنے آپ کو ڈھال لے گا، وہ بعد از موت دور حیات میں خدا کے اُس باغ میں بسنے کا مستحق قرار پائے گا جس کو جنت (Paradise) کہا جاتا ہے۔
قرآن میں جنت کا ذکر تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ قرآن ایک اعتبار سے، جنت کا تعارف ہے۔ یہ تعارف اتنے مؤثر انداز میں ہے کہ اس کو پڑھنے والا آدمی گویا جنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگتا ہے۔ اگر آپ اس اعتبار سے، قرآن کا تتبع کریں اور جنت کی آیتوں کو یکجا کر کے اس کا مطالعہ کریں تو آپ کے اندر شدید طور پر یہ جذبہ ابھرے گا کہ آپ جنت کو اپنی منزل بنالیں، آپ کی تمام سرگرمیوں کا رخ جنت کی طرف ہو جائے گا۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: لِمِثْلِ هٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ (61:
ابدی عمر، ابدی صحت، ابدی امن
قرآن اور حدیث میں جنت اور اہل جنت کا تذکرہ نہایت تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں ابدی طور پر ہر قسم کی نعمتیں کمال درجے میں موجود ہوں گی۔ وہاں انسان کی ہر اشتہا (desire) کی تکمیل کا سامان ہوگا ۔ وہاں انسان کو کامل معنوں میں فل فل مینٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ جنت میں انسان کے لیے یہ موقع ہوگا کہ وہ مسلسل طور پر وہاں کی نعمتوں کو انجوائے کرے اور کبھی بورڈم کا شکار نہ ہو۔ جنت ہر اعتبار سے اہل جنت کے لیے آئئیل اور پرفیکٹ دنیا ہوگی۔
مگر اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے موجودہ وجود کے ساتھ جنت کی نعمتوں سے حقیقی معنوں میں محظوظ نہیں ہو سکتا۔ اس لیے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو جو وجود ملا ہے، وہ ہر اعتبار سے، ایک محدود وجود ہے۔ اس وجود پر بڑھاپا آتا ہے، یہ وجود بیماری اور حادثات سے دوچار ہوتا ہے، یہ وجود زوال (de-generation) کا شکار ہوتا ہے، اس وجود پر موت طاری ہوتی ہے، اس وجود کے آرگن (organs) کمزورونا کا رہ ہوتے ہیں، اس وجود پر نیند اور تھکاوٹ طاری ہوتی ہے،