Al-Risala · May 2014 · page

قرآن کا موضوع

الرسالہ، مئی ۲۰۱۴

صاحبِ ایمان کے اندر موجودہ دنیا میں جاری ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے ایک صاحبِ ایمان پر مختلف احوال اور تجربات گزرتے ہیں۔ اگر اس کے اندر ایمانی شعور زندہ ہو تو یہ تمام احوال و تجربات اس کے لیے رزق رب کا ذریعہ بنتے رہیں گے۔ آخر کار وہ اُس مطلوب انسان کا درجہ حاصل کر لے گا جو آخرت کی جنت میں داخلے کے لیے ایک مستحق امیدوار (deserving candidate) کی حیثیت رکھتا ہے۔

قرآن کا موضوع

قرآن خالقِ کائنات کی کتاب ہے۔ قرآن کا موضوع (subject) یہ ہے کہ انسان کے بارے میں اللہ کے تخلیقی منصوبہ سے اس کو آگاہ کیا جائے۔ قرآن کے تمام بیانات براہِ راست یا بالواسطہ طور پر اسی معاملے کی وضاحت ہیں۔ مثلاً قرآن کی سورہ ابراہیم میں بتایا گیا ہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں— ایک انسان وہ ہے جو اپنی زندگی کی تعمیر' کلمہ طیبہ (14:24) کی بنیاد پر کرے اور دوسرا انسان وہ ہے جو' کلمہ خبیثہ (14:26) کی بنیاد پر اپنے آپ کو کھڑا کرے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو انسان اپنی زندگی کی تعمیر' کلمہ طیبہ کی بنیاد پر کرے، وہ موجودہ دنیا میں بھی اپنا رزق پائے گا اور موت کے بعد کی زندگی میں اس کو اعلیٰ مقامات حاصل ہوں گے۔ اس کے برعکس، جو آدمی 'کلمہ خبیثہ' کو اپنی زندگی کی بنیاد بنائے، اس کو استحکام حاصل نہیں ہوگا، اس کو غیر صحت مند پودے کی طرح اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا، وہ جنت میں داخلے کے لیے نااہل قرار پائے گا۔ تاریخ کا یہ عجیب المیہ ہے کہ انسانوں کی بڑی اکثریت نے اس تخلیقی حکمت کو نظر انداز کیا، انھوں نے اپنے آپ کو آخرت کے اعتبار سے نہیں بنایا، وہ موجودہ دنیا کی ظاہری چیزوں میں پھنس کر رہ گئے۔ اسی حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اِنَّ ھؤلاِء یحبون العاجلة ویزرون وراءھم یوما ثقیلا (76:27)۔

تاریخ کا تجربہ

تاریخ کے ہر دور میں تمام سوچنے والے انسان ایک ہی آبسیشن (obsession) میں مبتلا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2014 All issues

Printed page