Al-Risala · May 2014 · page

تاریخ کا تجربہ

الرسالہ، مئی ۲۰۱۴

رہے ہیں ۔ موجودہ دنیا کو کس طرح بہتر دنیا بنایا جائے ۔ ہر دور کے انسانوں کا یہ ایک مشترک خواب رہا ہے ۔ مذہبی لوگ اپنے اس خواب کے لیے صالح نظام کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں اور سیکولر لوگ اس کو آئیڈیل سسٹم کا نام دیتے ہیں ۔ تاریخ میں جتنی کتابیں لکھی گئی ہیں، خواہ وہ فکشن ہو یا نان فکشن، تقریباً ان سب کا خلاصہ یہی ہے۔ کوئی کتاب براہ راست طور پر اس موضوع پر لکھی گئی ہے اور کوئی کتاب بالواسطہ طور پر اس موضوع سے متعلق ہے ۔

یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ تاریخ کی تمام سرگرمیوں کا نشانہ (goal) عملاً یہی ایک تھا۔ مگر قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس سلسلے کی تمام انسانی سرگرمیاں نتیجے کے اعتبار سے، نا کام ہو کر رہ گئیں، کوئی بھی کوشش اپنے مطلوب نشانے تک نہیں پہنچی، نہ سیکولر لوگ اپنا مفروضہ آئیڈیل سسٹم بنا سکے اور نہ مذہبی لوگ اپنا مذکورہ صالح نظام بنانے میں کامیاب ہوئے ۔ یہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا سوال ہے۔ اس سوال کا جواب معلوم کرنا خود انسان کے وجود کی معنویت کو معلوم کرنا ہے اور بلا شبہہ اس سے بڑی کوئی دریافت (discovery) نہیں ہو سکتی کہ انسانی وجود کی معنویت کو حقیقی طور پر دریافت کیا جائے ۔ سیکولر مفکرین اور مذہبی مصلحین کی اس عمومی ناکامی کا سبب یہ ہے کہ ان کا منصوبہ خالق کے منصوبہ تخلیق سے مطابقت نہیں رکھتا تھا، اور جو منصوبہ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق نہ ہو، اس کے لیے اس دنیا میں ناکامی کے سوا کوئی اور انجام مقدر نہیں۔ خالق کے منصوبے کے مطابق، یہ دنیا ایک جوڑا دنیا (pair world) کی صورت میں بنائی گئی ہے ۔ ایک دنیا دوسری دنیا کا تکملہ (complement) ہے۔ اس تخلیقی منصوبے کے مطابق، کرہ ارض (planet earth) کی حیثیت ایک وقتی نرسری (nursery) کی ہے، اور دوسری دنیا کی حیثیت ایک ابدی باغ (eternal garden) کی، جس کو معروف طور پر جنت (Paradise) کہا جاتا ہے ۔

خلاصہ کلام

قرآن میں جنت کی تخلیق کے لیے ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے ۔ مثلاً : اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِينَ (3:133) یعنی جنت اہل تقوی کے لیے تیار کی گئی ہے ۔ اور فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ

‹ Previous page Next page › Contents of May 2014 All issues

Printed page