Al-Risala · May 2014 · page

سیکولرزم کا نظریہ

الرسالہ، مئی ۲۰۱۴

دور میں یہ ہوا کہ دنیا کے تقریبا آباد حصے میں مسلم مجاہدین نے قدیم طرز کے سیاسی نظام کو توڑ ڈالا۔ اس عمل کی تکمیل انیسویں صدی عیسوی میں یورپ میں ہوئی۔ اس زمانے میں بڑے بڑے سیاسی مفکرین (political thinkers) پیدا ہوئے۔ مثلاً روسو، وغیرہ۔ ان لوگوں نے قدیم زمانے کے جابر حکمرانوں (despotic kings) کے خلاف طاقت ور کتابیں لکھیں۔ یہ کتابیں چھپ کر پورے یورپ میں پھیل گئیں۔ اس کے بعد عملی انقلاب کے لیے بڑی بڑی سیاسی تحریکیں اٹھیں۔ اس کی تکمیل 1879 میں ہوئی، جب کہ وہ تاریخی واقعہ پیش آیا جس کو فر نچ انقلاب (French Revolution) کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد قدیم طرز کا بادشاہی نظام عملاً ختم ہو گیا اور دنیا میں بڑے پیمانے پر جمہوری نظام قائم ہو گیا۔ سائنس کا دور قدیم بادشاہی نظام میں آزادانہ سوچ کا ماحول موجود نہ تھا۔ بادشاہ ہر نئی فکر کو کچل دیتے تھے۔ مثال کے طور پر رومن ایمپائر تقریباً دو ہزار سال تک قائم رہا۔ مگر اس طویل مدت میں کوئی سائنسی دریافت نہ ہوسکی۔ موجودہ زمانے میں جمہوریت کا دور آیا تو انسان کو مکمل معنوں میں فکری آزادی حاصل ہو گئی۔ اب فطرت (nature) میں آزادانہ تحقیق کا عمل شروع ہو گیا۔ اس کے نتیجے میں فطرت میں چھپے ہوئے قوانین دریافت ہونے لگے، یہاں تک کہ وہ دور پیدا ہو گیا جس کو جدید سائنسی دور کہا جاتا ہے۔ جدید سائنس کے دو پہلو ہیں ۔ نظری سائنس (theoretical science) اور انطباقی سائنس (applied science)۔ نظری سائنس میں تحقیقات کے ذریعے عالم فطرت کے اُن مخفی قوانین کا ایک حصہ دریافت ہوا جس کو قرآن میں آیات اللہ (signs of God) کہا گیا ہے۔ ان قوانین کی دریافت کا یہ عظیم فائدہ ہوا کہ دینِ خداوندی کے معتقدات مسلمہ انسانی علم کی بنیاد پر ثابت شدہ بن گئے۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مذہب اور جدید چیلنج)

سیکولرزم کا نظریہ

قدیم سیاسی نظام میں بادشاہ کو مطلق اختیار حاصل ہوتا تھا۔ جدید جمہوریت میں اس کی گنجائش باقی نہ رہی۔ اس کے بعد حالات کے تحت ایک نیا نظریہ پیدا ہوا جس کو سیکولرزم کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2014 All issues

Printed page