اسلام اور دورِ جدید
الرسالہ، مئی ۲۰۱۴
اس وقت رسول اور اصحاب رسول کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ اس غیر فطری نظام کا خاتمہ کر دیں، تاکہ انسان کے اوپر اللہ کی تمام امکانی سعادتوں کے دروازے کھل سکیں۔ اُس وقت عرب کے پڑوس میں دو بڑی سلطنتیں قائم تھیں ۔ ایک، ساسانی ایمپائر (Sassanid Empire) اور دوسری، بازنطینی ایمپائر (Byzantine Empire)۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ان سلطنتوں کے سربراہوں کے نام خطوط روانہ کیے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ پہلے مرحلے میں یہ کوشش کی گئی کہ یہ حکمراں پرامن فہمائش کے ذریعے اپنی اصلاح کر لیں۔ جب ان حکمرانوں کے اوپر پرامن فہمائش کارگر نہیں ہوئی تو اس کے بعد یہ حکم دیا گیا کہ ان حکمرانوں کے خلاف فوجی کارروائی کی جائے۔ یہ فوجی کارروائی گویا انسانوں کے ذریعے ایک خدائی آپریشن (divine operation) تھا جو اللہ کی خصوصی مدد کے ذریعے کامل طور پر انجام پایا۔ یہ خدائی آپریشن کسی وقتی مقصد کے لیے نہ تھا۔ اُس کا نشانہ یہ تھا کہ ایک تاریخی نظام کا خاتمہ کر کے دنیا میں دوسرے تاریخی نظام کو وجود میں لایا جائے۔ اس قسم کا منصوبہ صرف ایک لمبے عمل (long-term process) کے ذریعے بروئے کار لایا جا سکتا تھا، چناں چہ ایسا ہی ہوا۔ سب سے پہلے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ ہوا کہ ملک عرب میں قبائلی حکمرانی کو ختم کیا گیا ۔ اس کے بعد خلافت راشدہ کے زمانے میں ایشیا افریقہ کے درمیان قائم شدہ دو بڑی سلطنتوں ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر ۔ کا خاتمہ کیا گیا۔ یہ دونوں واقعات غیر معمولی قربانیوں کے ذریعے پیش آئے۔ یہ تاریخ بشرى کا ایک عظیم سیاسی انقلاب تھا جس کا ذکر بائبل میں ان الفاظ میں آیا ہے ۔ اُس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہو گئیں۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے۔ قدیم ٹیلے جھک گئے : He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered. (Habakkuk 3:6)
تاہم اللہ تعالی کو تاریخ میں جو نیا دور لانا تھا، اس کے لیے اتنا ہی کافی نہ تھا۔ اس مقصد کے لیے ضروری تھا کہ سیاسی اجارہ داری کے نظام کو عالمی سطح پر ختم کر دیا جائے ۔ منصوبہ الہی کا یہ دوسرا مرحلہ مسلم مجاہدین کے ذریعے انجام پایا۔ جیسا کہ معلوم ہے، اس کے بعد بنو امیہ کے دور اور بنو عباس کے دور اور دوسری مسلم سلطنتوں کے