شتمِ رسول کا مسئلہ
الرسالہ، مئی ۲۰۱۴
كذاب (40: 24) کہا، کسی نے اپنے زمانے کے پیغمبر کو مجنون (15: 6) کہا، کسی نے اپنے زمانے کے پیغمبر کو مفتری (16:101) کہا، کسی نے اپنے زمانے کے پیغمبر کو سفیہ (7:66) کہا، کسی نے اپنے زمانے کے پیغمبر کا استہزا کیا (36:30)، وغیرہ۔ قرآن میں کثرت سے اس قسم کے توہین آمیز کلمات کا ذکر ہے، لیکن قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں بتایا گیا کہ ایسے لوگوں کو کوڑے مارو یا ان کو قتل کردو، قرآن میں ایسی کسی سزا کا مطلق ذکر موجود نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبر کی تو ہین سزا کا موضوع نہیں ہے، بلکہ وہ دعوت کا موضوع ہے، یعنی جو شخص '' توہین رسالت کا ارتکاب کرے، اس کو جسمانی سزا نہیں دی جائے گی، بلکہ دلیل کی زبان میں اس سے ایسی بات کہی جائے گی جس سے اس کا ذہن ایڈریس ہو۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ’’ توہین رسالت‘‘ کا ارتکاب کرنے والوں کو دلیل کی زبان میں خطاب کرکے ان کی اصلاح کی کوشش کی جائے گی، نہ کہ اُن کو قتل کرنا یا کوڑے مارنا۔
اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: أولئك الذين يعلم الله ما في قلوبهم، فأعرض عنهم، وعظهم، وقل لهم في أنفسهم قولا بلیغاً (4:63) یعنی اُن کے دلوں میں جو کچھ ہے، اللہ اُس سے خوب واقف ہے۔ پس تم ان سے اعراض کرو اور ان کو نصیحت کرو اور ان سے ایسی بات کہو جو اُن کے دلوں میں اتر جائے ۔
اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبر کے خلاف جو لوگ منفی روش اختیار کرتے ہیں، اُن کو سزا دینا اللہ کا کام ہے، جو اُن کے دلوں کے حال کو جانتا ہے۔ تمھاری ذمے داری یہ ہے کہ تم اُن کی ایذارسانی کو نظر انداز کرتے ہوئے ان سے درد مندانہ نصیحت کا معاملہ کرو، تم ان کو ایسے موثر انداز میں نصیحت کرو جو اُن کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی ہو۔
اس معاملے کی ایک مثال قرآن کی سورہ الغاشیہ ہے۔ اس کی متعلق آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: ’’کیا وہ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے پیدا کیا گیا، اور زمین کو کہ وہ کس طرح بچھائی گئی۔ پس تم یاد دہانی کرو، تم صرف یاد دہانی کرنے والے ہو، تم اُن پر دارو غہ نہیں۔ مگر جس نے روگردانی کی اور انکار کیا، تو اللہ