Al-Risala · May 2014 · page

شتمِ رسول کا مسئلہ

الرسالہ، مئی ۲۰۱۴

اس کو بڑا عذاب دے گا۔ ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہے، پھر ہمارے ذمے ہے ان کا حساب لینا‘۔ (88: 17-26)- قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کا وہ اسلوب کیا ہے جس کی تلقین پیغمبر کو کی گئی تھی۔ وہ اسلوب یہ ہے کہ لوگوں کو دلائل کے ذریعے خطاب کیا جائے۔ دین کی صداقت پر ان کو عقلی طور پر مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے۔ مخاطب کے منفی ردعمل کے باوجود دعوت کا یہی مثبت اسلوب آخر وقت تک جاری رہے گا۔ داعی کا یہ کام نہیں کہ وہ ان کے اوپر داروغہ بن کر ان کو سزا دینے لگے۔ اس کے بعد جہاں تک سزا و جزا کا معاملہ ہے، اس کا تعلق تمام تر اللہ سے ہے۔ قیامت میں اللہ ہر ایک کو اکٹھا کرے گا اور پھر ہر ایک کے عمل کے مطابق ، اس کے لیے جزا یا سزا کا فیصلہ فرمائے گا۔

اس معاملے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ قرآن میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ جو شخص رسول کے خلاف سب وشتم کرے، اس کو ایسا کرنے سے روکو اور اگر وہ نہ رکے تو اس کو سخت سزا دو۔ اس کے برعکس، قرآن میں اہل ایمان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم فریق ثانی کے خلاف سب وشتم نہ کرو۔ اس سلسلے میں قرآن کی متعلق آیت یہ ہے: ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبوا الله عدواً بغير علم (6:108) یعنی اللہ کے سوا جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں، تم ان کو سب وشتم نہ کرو، ورنہ یہ لوگ حد سے گزر کر جہالت کی بنا پر اللہ کو سب وشتم کرنے لگیں گے۔

قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل ایمان کا یہ کام نہیں کہ وہ میڈیا واچ (media watch) قائم کر کے ایسے لوگوں کی تلاش کریں جس نے ان کے خیال کے مطابق، سب وشتم کا فعل کیا ہے اور پھر اس کو ہر قیمت پر قتل ڈالیں۔ اس کے برعکس، قرآن یہ تعلیم دیتا ہے کہ اہل ایمان آخری حد تک ایسی کسی روش سے بچیں جس کا نتیجہ یہ ہو کہ لوگ مشتعل ہو جائیں اور وہ دینِ اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے خلاف سب وشتم جیسا معاملہ کریں۔ گویا کہ قرآن کی ہدایت کے مطابق، اس معاملے کی ذمے داری خود اہل ایمان کو اپنے اوپر لینا ہے، نہ کہ اس کو دوسروں کے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2014 All issues

Printed page