Al-Risala · May 2014 · page

نتیجے کا فقدان

الرسالہ، مئی ۲۰۱۴

نتیجہ (result) کے اس فقدان کا سبب کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ یہ تمام قرآنی سرگرمیاں حضرت عائشہ کے اس قول کا مصداق بن رہی ہیں: أولئك قرؤا ولم يقرؤا (انھوں نے قرآن کو پڑھا، مگر انھوں نے قرآن کو نہیں پڑھا)۔ اس معاملے کی مزید توضیح ایک حدیثِ رسول سے ہوتی ہے۔ جبیر بن نفیر سے منقول ہے کہ عوف بن مالک الاشجعی کہتے ہیں کہ ایک روز ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے آسمان کی طرف نگاہ کی اور فرمایا: ”وہ وقت آنے والا ہے جب کہ علم اٹھا لیا جائے گا“۔ انصار میں سے ایک شخص زیادہ بن لبید نے کہا: اے خدا کے رسول، کیا علم ہم سے اٹھا لیا جائے گا، حالاں کہ ہمارے درمیان خدا کی کتاب ہے اور ہم اپنے بچوں اور عورتوں کو اس کی تعلیم دے رہے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تم کو مدینہ کا سمجھ دار آدمی سمجھتا تھا۔ یہود ونصاری کیا تو رات و انجیل نہیں پڑھتے، پھر بھی اس کی باتوں پر ان کا عمل نہیں ہے۔ جبیر بن نفیر کی ملاقات شداد بن اوس سے ہوئی۔ انھوں نے اُن کو یہ حدیث سنائی۔ انھوں نے کہا کہ عوف نے سچ کہا۔ پھر شداد نے کہا: جانتے ہو، علم کا اٹھ جانا کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ شداد نے کہا: اس کے برتن کا چلا جانا (ذہاب أوعیتہ)- اس حدیث میں یہ الفاظ بہت با معنی ہیں کہ علم اٹھا لیا جائے گا۔ یہاں علم سے مراد انطباق (application) کا علم ہے۔ یعنی قرآن کو اپنے حالات پر منطبق کئے بغیر مجرد انداز میں پڑھنا۔ موجودہ زمانے میں جو واقعہ پیش آیا، وہ یہی تھا۔ قرآن کو لوگ غیر انطباقی انداز (non-applied way) میں پڑھنے لگے، وہ قرآن کو انطباقی انداز (applied way) میں نہ پڑھ سکے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ قرآن کو پڑھنے کے باوجود ان کا ذہن ایڈریس نہ ہوسکا۔ اس قسم کا درسِ قرآن یا مطالعہ قرآن آدمی کو خوش عقیدگی تو دے سکتا ہے، لیکن اُس سے مطلوب قرآنی افراد پیدا نہیں ہو سکتے۔ مذکورہ روایت میں برتن (أوعية) سے مراد یہ صلاحیت ہے کہ آدمی اپنے حالات کے اعتبار سے قرآن کا انطباق دریافت کر سکے۔

اس معاملے کی ایک مثال قرآن کی ایک آیت ہے جو اس وقت نازل ہوئی جب کہ مکہ میں

‹ Previous page Next page › Contents of May 2014 All issues

Printed page