Al-Risala · May 2014 · page

نتیجے کا فقدان

الرسالہ، مئی ۲۰۱۴

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مخالفانہ پروپیگنڈے کیے جا رہے تھے۔ وہ آیت یہ تھی: ورفعنا لك ذكرك (94:4) یعنی اس پروپیگنڈے نے لوگوں کے درمیان پیغمبرانہ مشن کا چرچا بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ لوگوں کے اندر فطری طور پر آپ کے مشن کے بارے میں تجسس (curiosity) پیدا ہو گیا ہے۔ اس طرح مخالفانہ پروپیگنڈے نے آپ کے لیے دعوت کا ایک مزید موقع (opportunity) پیدا کر دیا ہے۔ آپ لوگوں کے درمیان ایک متعارف شخصیت بن گئے، لوگ آپ کے مشن کے بارے میں سوال کرنے لگے، لوگوں کے اندر بڑے پیمانے پر یہ ذہن پیدا ہوا کہ پیغمبر کا مشن کیا ہے۔

مسلمانوں کو عام طور پر قرآن کی مذکورہ سورہ (الانشراح) یاد ہے۔ نمازوں میں عام طور پر اس سورہ کی تلاوت کی جاتی ہے۔ لیکن موجودہ زمانے کے مسلمان اس سورہ کا عصری انطباق دریافت نہ کر سکے۔ یہ عصری انطباق کیا ہے، وہ یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں بڑے پیمانے پر پیغمبر کے خلاف منفی پروپیگنڈے کے اُس واقعے کو دہرایا گیا جو دورِ اول میں پیش آیا تھا۔ منفی پروپیگنڈے سے ہماری مراد وہی چیز ہے جس کو عام طور پر ’رسول کی شان میں گستاخی‘ کہا جاتا ہے۔ ’گستاخی‘ کا یہ واقعہ اپنے نتیجے کے اعتبار سے، تعارف یا پبلسٹی (publicity) کے ہم معنی تھا۔ اس نے بڑے پیمانے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے مشن کے بارے میں تجسس کا ذہن پیدا کر دیا تھا، مگر دورِ جدید کے مسلمان اصولِ انطباق سے ناواقفیت کی بنا پر اس واقعے کو مثبت معنوں میں نہ لے سکے۔ وہ صرف اس کو منفی معنوں میں لے کر اس کے خلاف غوغائی تحریکیں چلانے لگے۔

یہاں اس کی چند مثالیں نقل کی جاتی ہیں ۔ ستمبر 1988 میں سلمان رشدی کی کتاب (The Satanic Verses) کے خلاف ہنگامہ، ستمبر 2005 میں ڈنمارک کے اخبار میں شائع شدہ کارٹون کے خلاف ہنگامہ، جولائی 2010 میں امریکا کے پادری ٹیری جونس کے خلاف ہنگامہ، ستمبر 2012 میں ’’انوسینس آف مسلمس‘ (Innocence of Muslims) کے نام سے امریکا میں بننے والی فلم کے خلاف ہنگامہ، وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2014 All issues

Printed page