نتیجے کا فقدان
الرسالہ، مئی ۲۰۱۴
اس سلسلے میں سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کا تجربہ قابلِ نقل ہے۔ پچھلے برسوں میں جب مذکورہ حالات پیدا ہوئے تو سی پی ایس کے لوگوں نے برسوں کی محنت کے بعد انگریزی زبان میں قرآن کا ایک ایسا ترجمہ تیار کیا جو وقت کے اسلوب میں ہو اور بہ آسانی قابلِ فہم (easily understandable) ہو ۔ پھر اس ترجمے کو خوب صورت انداز میں چھاپ کر انھوں نے دنیا کے مختلف ملکوں میں وہاں کے غیر مسلموں کے درمیان بڑے پیمانے پر تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ یہ کام نہایت منظم انداز میں 2008 سے جاری ہے۔ سی پی ایس کے افراد کا مشترک تجربہ یہ ہے کہ جب بھی وہ کسی غیر مسلم کو قرآن کا انگریزی ترجمہ یہ کہہ کر پیش کرتے ہیں کہ ـ سر، یہ آپ کے لیے اسپیشل گفٹ ہے (! Sir, this is a spiritual gift for you) تو وہ بہت شوق سے اُس کو اس طرح لیتا ہے جیسے کہ وہ بہت پہلے سے قرآن کا انتظار کر رہا تھا۔
یہ قرآن کے انطباقِ نو (reapplication) کی ایک مثال ہے۔ اس طرح کے انطباق نو کے مواقع موجودہ زمانے میں کثرت سے موجود ہیں، مگر مذکورہ روایت کے الفاظ میں، ”أوعية“ کی غیر موجودگی کی بنا پر ان کا استعمال ممکن نہ ہوسکا۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کا سب سے بڑا مشن دعوت الی اللہ ہے۔ وہ چیز جس کو مخالفانہ پروپیگنڈہ کہا جاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، دعوت کے لیے نئے مواقع پیدا ہونے کے ہم معنی ہے۔ اگر صحیح شعور زندہ ہو تو مسلمان ایسے ہر موقع کو نوغائی تحریک کے بجائے دعوتی مقصد کے لیے استعمال کریں۔ اس طرح وہ منفی واقعات کو مثبت نتیجے کی صورت دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہی وہ اعلی بصیرت ہے جس کو قرآن میں حکمت اور حدیث میں فراستِ مومن کے الفاظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔
بنگلور میں عصری اسلوب میں فکر انگیز کتابوں، ماہ نامہ الرسالہ اور دعوتی لٹریچر کے لیے رابطہ فرمائیں: Centre for Peace, Bangalore Tel. 080-22239121, Mob. 09886243194 Email.: thecentreforpeace@gmail.com