Al-Risala · June 2014 · page 13

سیئات، حسنات

الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۱۳

سیئات، حسنات

قرآن کی سورہ الفرقان میں ایک قانون فطرت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (25:70) یعنی مگر جو شخص توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک کام کرے تو اللہ ایسے لوگوں کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔

God will change the evil deeds of such people into good ones. قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ یہ نہیں ہے کہ اللہ اُن کے سیئات کو معاف کر دے گا۔ اس کے برعکس، یہ فرمایا کہ اللہ اُن کے سیئات کو بدل کر اُن کو حسنات میں تبدیل کر دے گا۔ یہ ایک بے حد قابل غور بات ہے کہ ایسا کیوں کرتا ہے کہ خود سیئات بدل کر حسنات بن جائیں۔ قرآن کی اس آیت میں دراصل ایک نفسیاتی قانون کو بتایا گیا ہے۔ انسان جب ایک غلطی کرے اور اس کے بعد اس کے اندر شدت کے ساتھ یہ احساس جاگ اٹھے کہ میں نے ایک غلطی کر دی، تو یہ کوئی سادہ بات نہیں ہوتی۔ اس کے بعد اس کے اندر فطری طور پر شرمندگی (repentance) کا احساس پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ احساس اُس کے لیے ایک ذہنی بھونچال کا کام کرتا ہے۔ اس کے بعد شدت کے ساتھ اس کے اندر محاسبہ (introspection) کی سوچ پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ شدید طور پر اپنی اصلاح کے لیے متحرک ہو جاتا ہے۔ اس کے اندر ایک نئے قسم کی ذہنی بیداری (intellectual awakening) پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ ذہنی بیداری اس کی پوری شخصیت میں ایک مثبت انقلاب کا باعث بن جاتی ہے۔ وہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ اپنی اصلاح کے کام میں مشغول ہو جاتا ہے، اس طرح اس کے اندر ایک نئی شخصیت ایمرج (emerge) کرتی ہے۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے۔ جس آدمی کی فطرت زندہ ہو، اُس کا وہی حال ہوتا ہے جس کا ذکر اوپر کیا گیا۔ ایسے انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ غلطی کا احساس اُس کے اندر ایک نیا پراسس جاری کر دیتا ہے۔ یہ اسی فطری پر اس کی تکمیل ہے جس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں بیان کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues

Printed page