لائف سپورٹ سسٹم
الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۱۴
لائف سپورٹ سسٹم
قرآن کی سورہ الاعراف کی ایک آیت یہ ہے : وَلَقَدْ مَكَّنَّكُمْ فِي الْأَرْضِ وَجَعَلْنَا لَكُمْ فِيهَا مَعَايِشَ ۙ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ (7:10) یعنی ہم نے تم کو زمین میں جگہ دی اور ہم نے تمھارے لیے اس میں زندگی کا سامان فراہم کیا ، مگر تم بہت کم شکر کرتے ہو۔ ’معايش‘ کا لفظ ’معیشۃ‘ کی جمع ہے۔ قرآن کی اس آیت میں معایش سے مراد اسباب معیشت ہیں ، یعنی کھانا اور پینا اور دوسری وہ تمام چیزیں جن پر انسانی زندگی کا مدار ہو۔ مفسر القرطبی نے معایش کی وضاحت ان الفاظ میں کی ہے: مایتعیش به من الطعم والمشرب وما تكون به الحياة (تفسیر القرطبي: 7/167)
اسباب معیشت سے مراد وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں لائف سپورٹ سسٹم (life support system) کہا جاتا ہے۔ ایسے اسباب جو انسان جیسی مخلوق کی بقا کے لیے ضروری ہیں ، وہ صرف سیارہ زمین پر پائے جاتے ہیں۔ وسیع کائنات میں کسی دوسرے مقام پر یہ اسباب حیات موجود نہیں۔
لائف سپورٹ سسٹم انسان کے لیے ایک استثنائی عطیہ ہے، ایسا عطیہ جو ساری کائنات میں کسی دوسری مخلوق کو حاصل نہیں۔ لائف سپورٹ سسٹم میں بے شمار آئٹم ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی آئٹم انسان خود سے پیدا نہیں کر سکتا۔ یہ پورا نظام اللہ کی طرف سے انسان کے لیے یک طرفہ عطیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ عطیہ اپنے آپ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان سے اس کے بارے میں یقیناً سوال کیا جائے کہ اس نے اس عطیے کا حق ادا کیا یا نہیں۔
یہی مطلب ہے قرآن کی اس آیت کا : ثُمَّ لَتُسْأَلُنَّ يَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِيمِ (8: یعنی پھر اُس دن تم سے نعمتوں کے بارے میں یقیناً پوچھا جائے گا :
Then on the Day you shall be questioned about the favours.
‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues