انجام آخرت
الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۱۸
انجام آخرت
ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إن الرجل ليعمل عمل أهل الجنة فيما يبدو للناس، وهو من أهل النار - وإن الرجل ليعمل عمل أهل النار فيما يبدو للناس، وهو من أهل الجنة (صحیح البخاري، رقم الحدیث: 4202) یعنی ایک آدمی لوگوں کے خیال کے مطابق، اہلِ جنت کا عمل کرتا ہے، حالاں کہ وہ جہنم والوں میں سے ہوتا ہے۔ اور ایک آدمی لوگوں کے خیال کے مطابق، اہل جہنم کا عمل کرتا ہے، حالاں کہ وہ جنت والوں میں سے ہوتا ہے۔
اس حدیث میں فيما يبدو للناس کا لفظ بہت اہم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص بظاہر (face vlue) پر کچھ اور ہوتا ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے، وہ کچھ اور ہوتا ہے۔ یہاں’فيما يبدو للناس‘ کے مقابلے میں، ’فيما يبدو للہ‘ کا لفظ محذوف ہے۔ دنیا کی زندگی میں ’فيما يبدو للناس‘ کے اعتبار سے، آدمی بظاہر کچھ اور دکھائی دے سکتا ہے، لیکن آخرت میں اس کا معاملہ ’فيما يبدو للہ‘ کے اعتبار سے ہوگا۔ یہ بات صالح انسان کی نسبت سے بھی ہے اور غیر صالح انسان کی نسبت سے بھی۔ تاہم یہ معاملہ دنیا کی زندگی میں بھی کسی نہ کسی موقع پر کھل جاتا ہے۔ دونوں قسم کے انسانوں کی زندگی میں آخر کار کوئی ایسا شاکنگ واقعہ (shocking event) پیش آتا ہے جس کے بعد اندر کی شخصیت کھل کر باہر آجاتی ہے۔ یہ اللہ کے قانون کے تحت ہوتا ہے۔ مثلاً قدیم مکہ میں حمزہ بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لائے تھے، مگر ایک واقعے نے ان کو ہلا دیا اور انھوں نے اعلان کر دیا کہ: دینی دین محمد (میرا دین وہی ہے جو محمد کا دین ہے)۔ اسی طرح قدیم مدینہ میں ایک شخص عبداللہ بن أبی تھا۔ وہ بظاہر کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو گیا تھا، لیکن مدینہ میں ایک واقعہ پیش آیا جس کے بعد اس کا داخلی نفاق نمایاں ہوگا اور وہ اسلام سے خارج قرار پایا۔ یہ واقعہ ہر انسان کے ساتھ پیش آتا ہے، کسی بھی انسان کا اس معاملے میں کوئی استثنا (exception) نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues