Al-Risala · June 2014 · page 19

متشابہ جنت، حقیقی جنت

الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۱۹

متشابہ جنت، حقیقی جنت

قرآن کی سورہ محمد میں اہل جنت کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ آیت آئی ہے: وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ (6 : یعنی اللہ اہل ایمان کو جنت میں داخل کرے گا۔ اللہ نے اُن کو اس جنت کی پہچان کرا دی ہے۔

اس آیت میں پہچان سے کیا مراد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص آخرت اور جنت کے بارے میں بہت زیادہ سوچتا ہے، وہ جنت کے بارے میں کچھ ایسے سراغ (clues) پالیتا ہے جس کے حوالے سے وہ جنت کے بارے میں خصوصی دعا کرے اور آخر کار وہ اللہ کے نزدیک جنت میں داخلے کا مستحق قرار پائے۔ جنت کی اس پہچان کا تعلق موجودہ دنیا سے ہے، نہ کہ آخرت کی دنیا سے۔

مثلاً اہل جنت جب جنت میں داخل ہونے کے بعد جنت کی نعمتوں کا تجربہ کریں گے تو اُن کا جو حال ہوگا، اُس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقاً قَالُوا هَذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأْتُوا بِهِ مُتَشَابِهاً (25 : 2) یعنی جب بھی اہل جنت کو جنت کے باغوں میں سے کوئی پھل کھانے کو ملے گا تو وہ کہیں گے کہ یہ وہی ہے جو اس سے پہلے ہم کو دیا گیا تھا، اور ملے گا اُن کو ایک دوسرے سے ملتا جلتا۔

اصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موجودہ دنیا کو جنت کے متشابہ (similar) بنایا ہے۔ جب ایک مومن غور و فکر کرتا ہے تو وہ اس حقیقت کو دریافت کر لیتا ہے کہ موجودہ دنیا، جہاں خدا نے اس کو رہنے کا موقع دیا ہے، وہ جنت کے مشابہ دنیا ہے۔

یہ دریافت بندۂ مومن کے اندر ایک قسم کا اہتزاز (thrill) پیدا کرتی ہے۔ وہ شکر کے احساس کے تحت کہہ اٹھتا ہے کہ۔ خدایا، تو نے موت سے پہلے کی زندگی میں مجھ کو متشابہ جنت عطا کر دی، اب تو موت کے بعد کی زندگی میں مجھ کو حقیقی جنت میں داخل فرما دے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues

Printed page