نقل و حرکت
الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۲۱
نقل و حرکت
کسی تحریک (movement) کی کامیابی کے لیے صرف آئیڈیالوجی کافی نہیں۔ اس کے لیے ایسی چیز بھی ضروری ہے جو عملی مظاہرے کی حیثیت رکھتی ہو۔ اس کی ایک صورت نقل و حرکت ہے۔ اس نقل و حرکت کو قرآن میں سیاحت (9:112) کہا گیا ہے۔ قدیم یونان میں ایک گروپ تھا جس کو مشائین (travellers) کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ مسلسل طور پر پیدل سفر کرتے تھے اور اس طرح لوگوں کے درمیان اپنے افکار پھیلاتے تھے۔ حضرت مسیح کے بعد سینٹ پال نے اس طریقے کو اختیار کرتے ہوئے مسیحیت کو مختلف ملکوں میں پھیلایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جو غزوات اور سرایا پیش آئے، وہ بھی ایک اعتبار سے اسی زمرے میں آتے ہیں۔ مسلم صوفیا کا طریقہ بھی یہی تھا کہ وہ اپنے مریدوں کے ساتھ سفر کرتے تھے اور جگہ جگہ اپنا حلقہ (order) بناتے تھے۔ موجودہ زمانے میں تبلیغی جماعت نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا ہے اور اسی بنا پر اس کو ’’مسجد وار تحریک‘‘ کہا جاتا ہے۔ الرساله مشن کی توسیع کے لیے بھی نقل و حرکت کے طریقے کو بڑے پیمانے پر اختیار کرنا ضروری ہے۔ اب اللہ کے فضل سے ہر شہر اور ہر بستی میں قارئین الرسالہ کے حلقے بن چکے ہیں۔ ضرورت ہے کہ الرسالہ مشن کے لوگ سفر کر کے ہر جگہ پہنچیں، وہ ہر مقام پر قارئین الرسالہ سے ملیں، اُن کو متحرک کریں، ان کو منظم کریں، ہر جگہ ہفتہ وار اجتماعات کا نظم کریں، ہر جگہ لائبریری قائم کریں، وغیرہ۔ جدید کمیونیکیشن نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ اب نقل و حرکت کے کام کو مزید اضافے کے ساتھ کیا جائے، یعنی نہ صرف جسمانی نقل و حرکت، بلکہ الیکٹرانک نقل و حرکت بھی۔
موجودہ زمانے میں کمیونیکیشن کی ترقی نے نقل و حرکت کے کام کو بہت آسان بنا دیا ہے۔ الرساله مشن سے وابستہ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس امکان کو بھرپور طور پر استعمال کریں۔ نقل و حرکت کے بغیر اگر الرساله مشن حسابی رفتار (arithmetic progression) سے آگے بڑھ رہا ہے تو نقل و حرکت کے بعد وہ ہندسی رفتار (geometric progression) سے آگے بڑھنے لگے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues