نقل و حرکت
الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۲۲
دعوتی نقل و حرکت کا یہ کام ممبئی کے حلقہ الرسالہ نے عملاً شروع کر دیا ہے۔ وہ منظم انداز میں اس کام کو انجام دے رہے ہیں۔ وہ مہاراشٹر یہ کے مختلف مقامات پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے ساتھ جاتے ہیں۔ اس دعوتی کام کے لیے وہ جدید ٹکنالوجی کا پورا فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اُن کو اس کام میں ہر جگہ لوگوں کا تعاون حاصل ہو رہا ہے۔ اس طرح اس علاقے میں یہ دعوتی مشن تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔ اس معاملے میں جو لوگ ممبئی والوں کے تجربے سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، وہ حسب ذیل ٹیلی فون پر اُن سے ربط قائم کر سکتے ہیں— محبوب بھائی: 09619163993 دعوتی نقل و حرکت کا یہی وہ کام ہے جس کو قرآن میں سیاحت کہا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن میں ’السائحون والسائحات‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیاحت کا یہ کام اہلِ ایمان مردوں اور اہلِ ایمان عورتوں دونوں کو یکساں طور پر انجام دینا ہے۔ دونوں سے یہ مطلوب ہے کہ وہ دعوتی مشن کے کام میں دوسرے طریقوں کے علاوہ نقل و حرکت کے طریقوں کو استعمال کریں۔ وہ دعوت کے عمل کو ایک متحرک عمل بنا دیں۔
سیاحت کا مطلب ہے— سفر کرنا (to travel)۔ سفر ایک عام انسانی ضرورت ہے۔ سفر چھوٹا بھی ہوتا ہے اور بڑا بھی۔ سفر قریب کی منزل کے لیے بھی ہوتا ہے اور دور کی منزل کے لیے بھی۔ سفر کی نوعیت کا تعلق خود سفر سے نہیں ہے، بلکہ مسافر سے ہے۔ مسافر کا جو مقصد حیات ہو، اُسی سے اس کے سفر کا مقصد بھی متعین ہوتا ہے۔ مثلاً تاجر کا سفر تجارت کے لیے ہوتا ہے۔ سیاح کا سفر تفریح کے لیے ہوتا ہے، وغیرہ۔ مومن اپنے عقیدے کے اعتبار سے، ایک صاحبِ مشن انسان ہوتا ہے۔ مومن کی زندگی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اُس نے جس سچائی کو دریافت کیا ہے، اس سچائی کو وہ تمام دنیا والوں تک پہنچائے۔ یہی وہ صفت ہے جو مومن کی سیاحت کو ایک دعوتی سیاحت بنا دیتی ہے۔ وہ جہاں جاتا ہے، اس کا مشن بھی اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ سفر کے ہر مرحلے میں اس کا دعوتی مشن جاری رہتا ہے۔ اس معاملے میں عورت اور مرد کا کوئی فرق نہیں۔ مومن اور مومنہ دونوں ہمیشہ دعوتی توسیع کے اس کام میں سرگرم رہتے ہیں۔ (14 اپریل 2014)
‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues