حقیقت پسندانہ مزاج
الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۲۴
حقیقت پسندانہ مزاج
نئی دہلی میں انڈیا گیٹ کا علاقہ بہت خاص علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ شام کے وقت یہاں لوگ سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں۔ ایک بار میں نے دیکھا کہ ایک شخص وہاں آیا۔ اس کے ساتھ اس کی بیوی اور اس کا بچہ تھا۔ بچے نے اپنے باپ سے آئس کریم کی فرمائش کی۔ باپ نے فوراً اپنی جیب سے ایک نوٹ نکالا۔ اس نے آئس کریم کا ایک پیکٹ خریدا اور پھر تینوں کھڑے کھڑے آئس کریم کھانے لگے۔ میں نے اُس آدمی کے چہرے کو دیکھا تو اس کے چہرے پر فخر کی چمک تھی۔ گویا کہ خاموش انداز میں وہ یہ کہہ رہا تھا کہ میری جیب میں پیسہ ہے اور میں اپنے پیسے سے آئس کریم خرید کر اپنے بچے کی فرمائش پوری کر سکتا ہوں۔ یہ پورا واقعہ اُس کے نزدیک ’’میں‘‘ کا کارنامہ تھا۔ اس کے لیے اُسے کسی اور کا احسان مند ہونے کی ضرورت نہیں۔
یہی تمام انسانوں کا حال ہے۔ تمام عورت اور مرد اسی احساس میں جی رہے ہیں۔ اس احساس نے لوگوں کے اندر سے تواضع (modesty) کا جذبہ چھین لیا ہے۔ ہر آدمی کا کیس کبر(arrogance) کا کیس بننا ہوا ہے۔ ہر عورت اور مرد کا صرف ایک مذہب ہے، اور وہ ایگو ازم (egoism) ہے۔ اس ایگو کلچر نے ہر ایک کو خود پسند اور سرکش اور متکبر بنا دیا ہے۔ لوگوں کا یہ مزاج صرف اُس وقت تک چھپا رہتا ہے، جب تک ان کی انا کو چھیڑا نہ جائے۔ انا کو چھیڑتے ہی ہر آدمی بتا دیتا ہے کہ وہ کبر کا کیس تھا، اگرچہ وہ بظاہر متواضع (modest) بنا ہوا تھا۔ یہ مزاج سر تا سر غیر حقیقت پسندانہ مزاج ہے۔ اگر آدمی حقیقت واقعہ پر غور کرے تو وہ کبھی بھی متکبر نہ بنے۔ کیوں کہ اس دنیا میں کسی کے لیے متکبر بنا مضحکہ خیز حد تک بے معنی ہے۔ چناں چہ کوئی سائنٹسٹ کبھی متکبر نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اُس کا میدانِ مطالعہ علومِ قطعیہ (exact sciences) ہوتے ہیں۔ اس بنا پر اس کے اندر اپنے آپ حقیقت پسندی کا مزاج آ جاتا ہے۔
ہر سائنٹسٹ، شعوری یا غیر شعوری طور پر جانتا ہے کہ اس کو کامل طور پر حقیقتِ واقعہ کی پابندی
‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues