انسان، ٹکنالوجی
الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۲۳
انسان، ٹکنالوجی
امریکہ کے ایک سفر میں مجھ کو ایک سنٹر دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ ایک روحانی مشن کا سنٹر تھا۔ اس مشن کے بانی (founder) کا انتقال ہو چکا تھا۔ بانی جیسی کوئی زندہ شخصیت وہاں موجود نہ تھی۔ اس کے باوجود سنٹر میں مشن کی تمام سرگرمیاں بدستور جاری تھیں۔ میں نے غور کیا تو بانی کی غیر موجودگی کے باوجود مشن کی سرگرمیوں کے بدستور جاری رہنے کا سبب دو چیزیں تھیں۔ ٹیم اور ٹکنالوجی۔ بانی کا انتقال ہوا تو اس نے اپنے بعد دو چیزیں چھوڑی تھیں: ڈیڈی کیٹڈ ٹیم (dedicated team) اور تحریر اور تقریر کی شکل میں اپنا پیغام۔ بانی نے اپنی سنجیدہ کوششوں کے ذریعے بہت سے افراد کو متاثر کیا، یہاں تک کہ اس کے مشن کی پشت پر ایک مضبوط ٹیم بن گئی۔ اس کے علاوہ بانی نے بہت سی کتابیں لکھیں اور بڑی تعداد میں اس کی تقریروں سے آڈیو کیسٹ اور ویڈیو کیسٹ تیار ہو گئے۔ سنٹر میں میں نے دیکھا کہ اس کی ٹیم نہایت سنجیدہ انداز میں ان چیزوں کو استعمال کر رہی ہے۔ اس نے وہاں لائبریری اور ریڈنگ روم بنایا۔ کتابوں کے ڈسٹری بیوشن کے لیے نظام قائم کیا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ رات دن کے بڑے حصے میں مسلسل آڈیو کیسٹ اور ویڈیو کیسٹ چلتے تھے۔ اس کے علاوہ نہایت منظم پیمانے پر اس کی ترسیل کی جا رہی تھی، اُس کو جگہ جگہ ڈاک کے ذریعے بھیجا جا رہا تھا۔ اسی طرح کمپیوٹر ٹکنالوجی کا استعمال بھی وہاں بھر پور طور پر کیا جا رہا تھا۔
انسان کے وجود کے دو پہلو ہیں— اس کی آواز اور اس کی جسمانی شخصیت۔ پچھلے زمانے میں انسان کی وفات کے بعد یہ دونوں چیزیں باقی نہیں رہتی تھیں۔ اب ٹکنالوجی نے یہ ممکن کر دیا ہے کہ انسان کی آواز اور اس کی شخصیت دونوں بظاہر اس طرح باقی رہیں جیسے کہ وہ انسان اب بھی پوری طرح موجود ہے۔ موجود زمانے میں کسی مشن کے تسلسل کو قائم رکھنے کا یہ ایک نیا امکان ہے جو جدید ٹکنالوجی کے ذریعے پیدا ہوا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues