Al-Risala · June 2014 · page 28

سب کچھ خدا کا عطیہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۲۸

یہ سب اتنی زیادہ انوکھی صفات ہیں جو انسان کو اپنے آپ بلا قیمت ملی ہوئی ہیں۔ انسان اگر اس پر سوچے تو وہ شکر کے احساس میں ڈوب جائے۔

پھر یہ دنیا جس کے اندر انسان رہتا ہے، وہ حیرت ناک حد تک ایک موافق انسان دنیا ہے۔ زمین جیسا گرہ ساری وسیع کائنات میں کوئی دوسرا نہیں۔ یہاں پانی ہے، یہاں سبزہ ہے، یہاں ہوا ہے، یہاں دھوپ ہے، یہاں کھانے کا سامان ہے اور دوسری ان گنت چیزیں خالق کے یک طرفہ عطیے کے طور پر موجود ہیں۔ یہ چیزیں زمین کے سوا کہیں اور موجود نہیں۔ اگر آدمی اس حقیقت کو سوچے تو وہ مذکورہ عرب شیخ کی طرح شکر کے احساس سے سجدے میں گر پڑے، مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انسان دنیا کی چیزوں کو فارگرانٹیڈ(for (for granted) طور پر لیے رہتا ہے۔ وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ ہے، اُس کو ہونا ہی چاہیے۔ جو کچھ اُس کو ملا ہوا ہے، وہ اُس کو ملنا ہی چاہیے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا امتحان ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں اپنے شعور کو زندہ کرے۔ وہ بار بار سوچ کر اس حقیقت کو سمجھے کہ وہ سرتا پا ایک عاجز مخلوق ہے۔ اس کو جو کچھ ملا ہوا ہے، وہ مکمل طور پر خدا کے دینے سے ملا ہے۔ خدا اگر نہ دے تو اُس کو کچھ بھی ملنے والا نہیں۔ جو چیزیں انسان کو بظاہر اپنے آپ مل رہی ہیں، اُن کو وہ اس طرح لے، جیسے کہ وہ ہر وقت براہ راست خدا کی طرف سے بھیجی جارہی ہیں۔ وہ ملی ہوئی چیزوں کو دی ہوئی چیزوں کے طور پر دریافت کرے۔

خدا کا مطلوب انسان وہ ہے جو اپنے ذہن کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ وہ بظاہر اسباب کے تحت ملنے والے سامان حیات کو بلا اسباب خدا کی طرف سے ملا ہوا سمجھے، وہ معمول (usual) کو خلاف معمول (unusual) کے طور پر دیکھ سکے، وہ غیب کو شہود کے درجے میں دریافت کرے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو آخرت میں خدا کا دیدار نصیب ہوگا اور یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کے پڑوس میں بنائی جانے والی ابدی جنت میں جگہ پائیں گے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues

Printed page