Al-Risala · June 2014 · page 29

قرآن کا پیغام

الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۲۹

قرآن کا پیغام

قرآن کی سورہ مریم میں قرآن کے بارے میں یہ آیت آئی ہے: لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِينَ (19:97) یعنی قرآن اس لیے اتارا گیا ہے کہ وہ اہلِ تقویٰ کے لیے بشارت ثابت ہو۔ بشارت کا مطلب اچھی خبر (good news) ہے۔ قرآن، خدا کی ایک مستند کتاب ہے۔ قرآن تمام انسانوں کو ایک اچھی خبر دینے والا ہے۔ وہ اچھی خبر یہ ہے کہ انسان اگر دنیا کی محدود زندگی میں حسنِ عمل کا طریقہ اختیار کرے تو وہ موت کے بعد کی زندگی میں ابدی جنت میں جگہ پائے گا۔

قرآن کے مطابق، یہ اچھی خبر اُن افراد کے لیے ہے جو دنیا کی زندگی میں تقویٰ کی روش اختیار کریں۔ جنت عمومی طور پر ہر انسان کو نہیں ملے گی، وہ صرف اُس انسان کو ملے گی جو دنیا کی زندگی میں تقویٰ کا ثبوت دے (3:133)۔ جنت ایک معیاری دنیا ہے۔ اس معیاری دنیا میں جگہ پانے کی شرط صرف ایک ہے، اور وہ تقویٰ ہے۔ قرآن کے مطابق، یہی وہ منصوبہ تخلیق (creation plan) ہے جس کے لیے انسان کو پیدا کر کے اس کو محدود مدت کے لیے سیارہ ارض (planet earth) پر بسایا گیا ہے۔ سیارہ ارض انسان کے لیے کوئی عیش گاہ نہیں ہے، وہ مذکورہ مقصد کے لیے مقام انتخاب (selection ground) ہے۔ یہاں وہ افراد چنے جارہے ہیں جو اپنی اعلیٰ صفات کی بنا پر جنت جیسی معیاری دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہوں۔ یہی بات قرآن کی سورہ الملک میں ان الفاظ میں کہی گئی ہے: اَلَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً (67:2) یعنی اللہ نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے: He created death and life so that He might test you, and find out which of you is best in conduct. اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں پیدا کی ہیں، وہ وسیع تر تقسیم (division) میں دو ہیں مادی دنیا اور انسان۔ مادی دنیا سے مراد وہ پوری وسیع کائنات ہے جس کو نیچر (nature) کہا جاتا ہے۔ مادی دنیا

‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues

Printed page