Al-Risala · June 2014 · page 31

قرآن کا پیغام

الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۳۱

بن جائے ، کوئی دوسری چیز اس کی حساسیت کا مرکز نہ بنے۔

قرآن کی اس آیت میں دراصل اُس چیز کا حکم دیا گیا ہے جس کو ایک لفظ میں صحیح طرزِ فکر کہا گیا ہے۔ انسانی زندگی کی درستگی کا سارا مدار اس پر ہے کہ اس کے اندر صحیح طرزِ فکر پیدا ہو جائے۔ وہ اپنے قول اور عمل کے معاملے میں اپنے آپ کو پوری طرح قانونِ خداوندی کے مطابق بنا لے۔ ایسے آدمی کا حال کیا ہوگا، اُس کو قرآن میں مختلف مقامات پر بتایا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَلا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۖ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْؤُولًا (36 :17) یعنی تم اُس چیز کے پیرو نہ بنو جس کا تمھیں علم نہیں۔ بے شک کان اور آنکھ اور دل سب کی، آدمی سے پوچھ ہوگی۔

قرآن کی اس آیت میں دراصل اُس چیز کا حکم دیا گیا ہے جس کو ایک لفظ میں صحیح طرزِ فکر کہا گیا ہے۔ انسانی زندگی کی درستگی کا سارا مدار اس پر ہے کہ اس کے اندر صحیح طرزِ فکر پیدا ہو جائے۔ وہ اپنے قول اور عمل کے معاملے میں اپنے آپ کو پوری طرح قانونِ خداوندی کے مطابق بنا لے۔ انسان کو سننے کی طاقت ، دیکھنے کی طاقت اور سوچنے کی طاقت اس لیے دی گئی ہے، تا کہ انسان اُن کا استعمال کر کے اپنے لیے اِس صحیح روش کو جان سکے جس کو قرآن میں صراطِ مستقیم کہا گیا ہے۔ صراطِ مستقیم سے ہٹنا، اس بات کا ثبوت ہے کہ آدمی نے اپنی ملی ہوئی صلاحیتوں کو درست طور پر استعمال نہیں کیا۔ ایسا آدمی اللہ تعالی کے یہاں قابلِ مواخذہ (accountable) قرار پائے گا ، کوئی بھی عذر اُس سے قبول نہیں کیا جائے گا (57 :30)۔ اسی طرح حیاتِ انسانی کا ایک اصول یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو کبر (arrogance) کی نفسیات سے بچائے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحاً ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ (18 :31) یعنی تم زمین میں اکڑ کر نہ چلو ۔ بے شک اللہ کسی اکڑنے والے اور فخر کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ قرآن کی اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ انسان کے لیے سب سے بُری اخلاقی صفت کیا ہے، وہ کبر ہے حقیقت یہ ہے کہ کبر تمام برائیوں کا سرچشمہ ہے۔ اس کے برعکس ، تواضع (modesty) تمام بھلائیوں کا

‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues

Printed page