قرآن کا پیغام
الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۳۰
مکمل طور پر خدا کے مقرر کئے ہوئے قانون (divine laws) کے تحت کام کر رہی ہے۔ وہ خدا کے قانون سے ادنیٰ انحراف نہیں کرتی۔ مگر انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسان پوری کائنات میں ایک استثنا کی حیثیت رکھتا ہے، وہ یہ کہ انسان کو انتخاب کی آزادی (freedom of choice) عطا کی گئی ہے۔ انسان کو کامل اختیار حاصل ہے کہ وہ خود اپنی سوچ کے مطابق، اپنے قول و عمل کا فیصلہ کرے۔ یہ بات قرآن کی مختلف آیتوں میں بتائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے: ”کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے سوا کوئی اور دین چاہتے ہیں، حالاں کہ اُسی کے حکم میں ہے جو کوئی آسمان اور زمین میں ہے، خوشی سے یا ناخوشی سے، اور سب اُسی کی طرف لوٹائے جائیں گے“ (83 :3)۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت کا ترجمہ یہ ہے: ”اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے گا، تو وہ دین اُس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نا کام انسانوں میں سے ہوگا“ (85 :3) قرآن کی اِس آیت میں لفظِ اِسْلام (submission) استعمال کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خالق کی جو اطاعت بقیہ کائنات سے جبری (compulsory) طور پر مطلوب ہے، انسان سے یہ مطلوب ہے کہ اسی اطاعت کو وہ کامل آزادی کے ساتھ اپنی زندگی میں اختیار کرے۔ قرآن کی مذکورہ آیت کے مطابق، جنت کی بشارت متقی انسانوں کے لیے ہے۔ متقی کا لفظی مطلب ہے— ڈرنے والا یا بچنے والا۔ ڈرنا یا بچنا کیا ہے، یہ دراصل حساسیت (sensitivity) کا ایک ظاہر ہ ہے۔ جب آدمی کسی چیز کے بارے میں بہت زیادہ باشعور ہو جائے تو فطری طور پر وہ اس کے بارے میں بہت زیادہ حساس (sensitive) ہو جاتا ہے۔ انسان کی زندگی میں سب سے بڑا رول اسی حساسیت کا ہے۔ آدمی جس چیز کے بارے میں حساس نہ ہو، وہ اس کو نظر انداز کرے گا، اور جس چیز کے بارے میں وہ حساس ہو، وہ چیز اس کا کَنْسَرن (concern) بن جائے گی۔ عین اپنے مزاج کے مطابق، اُس کو وہ سب سے زیادہ قابلِ توجہ سمجھنے لگے گا۔
قرآن کا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچائے۔ وہ اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ اپنی زندگی میں خدا کی اطاعت ہی اُس کا سب سے بڑا کَنْسَرن (sole concern)
‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues