Al-Risala · June 2014 · page 33

کائنات کا سائنسی مطالعہ

الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۳۳

کائنات کا سائنسی مطالعہ

کائنات کے سائنسی مطالعے کے موضوع پر اظہار خیال کرتے ہوئے ایک مشہور عالم نے لکھا ہے ۔ کائنات کے اسرار کی جستجو اور رموزِ فطرت کی عقدہ کشائی کا ذوقِ ایمان کے دروازے کی کلید ہے۔ لیکن جس جستجو کا مطلوب خدا نہ ہو اور جو عقدہ کشائی ایمان بالاخرت کی طرف رہبری کرنے والی نہ ہو، قرآن کے نزدیک یہ جستجو ہرزہ گردی اور یہ عقیدہ کشائی باد پیمائی ہے۔ موجودہ سائنس کا موضوع کا ئنات (nature) کا مطالعہ ہے۔ مگر سائنس کا مقصد نہ فلسفیانہ مطالعہ ہے اور نہ مذہبی مطالعہ۔ فلسفیانہ مطالعہ اور مذہبی مطالعہ دونوں ، علمی اصطلاح کے مطابق، سبجیکٹیو مطالعہ (subjective study) کے طریقے ہیں۔ اس کے برعکس، سائنس کا طریقِ مطالعہ وہ ہے جس کو آبجیکٹیو مطالعہ (objective study) کہا جاتا ہے، یعنی کائنات کے صرف اُس پہلو کا مطالعہ جو تجربے اور مشاہدے کی گرفت میں آتا ہو۔

سائنسی تحقیق کی حیثیت کسی مذہبی کتاب جیسی نہیں ہے۔ اپنے موضوع مطالعہ کے اعتبار سے، سائنس کی حیثیت صرف یہ ہے کہ وہ ہمارے لیے ڈیٹا (data) فراہم کر دے۔ یہ ہمارا کام ہے کہ ہم سائنس کے فراہم کردہ ڈیٹا کو کس طرح استعمال کرتے ہیں۔ میں نے سائنس کا مطالعہ اسی نقطہ نظر کے تحت کیا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مذکورہ اقتباس اس معاملے میں صورتِ حال کی صحیح نمائندگی نہیں ہے۔ اس معاملے میں زیادہ درست طور پر کہنے کی بات یہ ہے کہ ؀ کائنات خدا کی تخلیق ہے۔ کائنات کا مطالعہ براہِ راست طور پر تخلیق کی دریافت ہے اور بالواسطہ طور پر خدا کی دریافت۔ سائنس کو صرف سائنس کے اعتبار سے دیکھنا چاہیے۔ سائنس نے گہرے مطالعے کے ذریعے فطرت کے بارے میں قابلِ قدر ڈیٹا (valuable data) فراہم کر دئے ہیں۔ یہ ہمارا کام ہے کہ ہم اس ڈیٹا کو استعمال کر کے اسلام کا نیا علمِ کلام مرتب کریں۔ یہ ہمارے اپنے عمل کا معاملہ ہے، نہ کہ سائنس کے طریقِ مطالعہ کا معاملہ۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues

Printed page