Al-Risala · June 2014 · page 34

مسلم تاریخ کا احیا

الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۳۴

مسلم تاریخ کا احیا

1799 میں مسلم دنیا میں دو بڑے بڑے واقعات ہوئے، اک طرف ، اسی سال میسور 1799 میں ہم دنیا میں دو بڑے واقعے ہوئے۔ ایک طرف، اِسی سال میسور (انڈیا) کے سلطان ٹیپو، انگریز فوج سے لڑتے ہوئے مارے گئے۔ اس کے بعد انگریزی فوج کے (انڈیا) کے مہاں پر, ریورسن کے بارے میں مارے جنرل نے خوش ہو کر کہا تھا:

Today, India is ours. 1799ء) تک, اس علاقہ پر تے۔ بل کہ ریڈروں کی ) میں واقع شان دار دوسری طرف، اسی سال (1799) بحر روم (Mediterranean Sea) میں واقع عثمانی ترکوں کے طاقت ور بحری بیڑہ (naval fleet) پر یورپی قوموں نے حملہ کیا اور اس کو تباہ کر دیا۔ اس کے بعد یورپی فوج کے جنرل نے خوش ہو کر کہا تھا:

This is the beginning of the end.

1799 مسلمانوں کے عروج کے خاتمے کی علامت ہے۔ دوسری طرف، یہی 1799 مسلمانوں کے زوال کے آغاز کی علامت ہے۔ اس کے بعد پوری مسلم دنیا میں احیاء ملت کے نام سے زبردست سرگرمیاں شروع ہوگئیں۔ مگر لمبی مدت کی غیر معمولی قربانیوں کے باوجود احیاء ملت کی یہ دو سو سالہ جد و جہد اپنے مطلوب نتیجے کے اعتبار سے، سرتا سر ناکام رہی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اس کا نقطہ آغاز ہی درست نہ تھا۔ اُس وقت اٹھنے والے مسلم رہناؤں کے لیے جو فوری ریفرنس (immediate reference) تھا، وہ مسلمانوں کی سیاسی تاریخ تھی۔ چناں چہ مسلم احیا کی تحریک عملاً مسلمانوں کے سیاسی غلبہ کے احیا کی تحریک بن گئی۔ حالاں کہ احیا کا صحیح طریقہ یہ تھا کہ مسلمان تاریخ سے گزر کر دورِ نبوت تک پہنچیں اور وہ سنت رسول کے احیا کو اپنا نشانہ بنائیں، نہ کہ مسلم تاریخ کے احیا کو۔

اِسی غلطی کا یہ نتیجہ ہے کہ اس دور میں اٹھنے والی مسلم تحریکوں کا نشانہ فکر اسلامی کا احیا نہ رہا، بلکہ اس کا مایہ بہ نہ اس دور میں اے راہیں عملاً مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کا احیا اُن کا نشانہ بن کر رہ گیا۔ ساہ مالیا رہا نہ ملہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues

Printed page