Al-Risala · June 2014 · page 36

تخلیق انسانی کا مقصد

الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۳۶

تخلیق انسانی کا مقصد

ہر زمانے کے اہل فکر ہمیشہ یہ سوچتے رہے ہیں کہ انسان کی تخلیق کا مقصد (purpose of creation) کیا ہے۔ معلوم تاریخ کے مطابق، تقریباً 5 ہزار سال سے انسان اس سوال کا جواب معلوم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ مگر اکیسویں صدی عیسوی کے ربع اول تک اس کا کوئی متفق علیہ جواب انسان دریافت نہ کر سکا۔

مشہور برٹش سائنس داں سر جیمز جینز (وفات: 1946) نے اپنی کتاب پر اسرار کائنات (The Mysterious Universe) میں لکھا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اس کے لیے بنائی نہیں گئی تھی:

It seems that man has strayed in a world that was not made for him. اس موضوع پر سوچنے والے لوگوں نے عام طور پر مایوسی کی باتیں کی ہیں۔ ایک روسی مصنف نے لکھا ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز حسین (beautiful) ہے، صرف ایک چیز ہے جو حسین نہیں، اور وہ انسان ہے۔

ڈاکٹر الکسس کیرل نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس موضوع کی پیچیدگیوں کی بنا پر انھوں نے اس کا نام انسان نامعلوم (Man the Unknown) رکھ دیا ہے۔ برطانی مصنف ایڈورڈ گبن نے لکھا ہے کہ انسانی تاریخ جرائم کے رجسٹر سے کچھ ہی زیادہ ہے۔ فرانس کے مشہور فلسفی ڈیکارٹ نے انسان کی ہستی پر غور کیا۔ اس نے کہا کہ میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں (I think, therefore, I exist) - ڈیکارٹ کے اس قول سے صرف انسان کے وجود کی تصدیق ہوتی ہے، لیکن یہ سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کہ انسان کے وجود کا مقصد (purpose of existence) کیا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues

Printed page