تخلیق انسانی کا مقصد
الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۳۷
مشہور یونانی فلسفی ارسطو (وفات: 322 ق م) نے اس مسئلے پر غور کیا۔ انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ـــ صرف قانونی نظام یہ کر سکتا ہے کہ وہ لوگوں کو اُن کے وحشیانہ سلوک سے بچائے: The legal system alone saves people from their own savagery. ارسطو کو معلم اول کہا جاتا ہے۔ چناں چہ یہی سوچ بعد کی تاریخ میں رائج ہوگئی۔ ارسطو کی سوچ کا مطلب یہ تھا کہ انسان کو اعلی اوصاف کے ساتھ پیدا کیا گیا ہے، لیکن یہ اوصاف ابتدائی طور پر بالقوہ حالت میں ہوتے ہیں۔ اس بالقوہ کو بالفعل بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک موافق سماجی اور سیاسی نظام (socio-political system) موجود ہو۔ اُس وقت کا یونانی بادشاہ سکندر اعظم (وفات: 323 ق م) ارسطو کا شاگرد تھا۔ ارسطو نے چاہا کہ بادشاہ کے تعاون سے وہ یونان میں مطلوب سیاسی اور سماجی نظام بنا سکے، مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ چناں چہ ارسطو مایوسی (despair) کی حالت میں صرف 62 سال کی عمر میں مر گیا۔
ارسطو کے نزدیک انسانی فلاح صرف صالح اجتماعی نظام کے ذریعے ممکن ہوسکتی تھی۔ ارسطو نے اپنے اس تصور کو فلسفہ کی زبان میں بیان کیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ اس نے اپنے اس تصور کو فلاسفائز (philosophise) کیا۔ اس کے ایک عرصہ بعد جرمنی میں کارل مارکس (وفات: 1883) کا دور آیا۔ کارل مارکس نے اس تصور کو اقتصادی اصطلاحوں میں بیان کیا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ مارکس نے اس تصور کو سیکولرائز (secularise) کیا۔ مگر کارل مارکس، عالمی کمیونسٹ پارٹی اور اس تصور پر بننے والی سوویت ریاست (USSR) سب کی سب، اپنے اجتماعی نشانے کے حصول میں مکمل طور پر ناکام ہو گئے۔
اس کے بعد یہ فکری منہج مسلمانوں کے درمیان رائج ہوا۔ عرب دنیا میں سید قطب (وفات: 1966) اور برصغیر ہند میں سید ابوالاعلی مودودی (وفات: 1979) پیدا ہوئے۔ ان لوگوں نے شعوری یا غیر شعوری طور پر اس فکری منہج کو اسلام میں داخل کر دیا۔ انھوں نے اسلام کی سیاسی تفسیر بیان کی۔ انھوں نے
‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues