Al-Risala · June 2014 · page 40

تخلیق انسانی کا مقصد

الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۴۰

فرشتوں نے کہا: کیا تو زمین میں ایسے لوگوں کو بسائے گا جو اس میں فساد کریں اور خون بہائیں۔ اور ہم تیری حمد کرتے ہیں اور تیری پاکی بیان کرتے ہیں۔ اللہ نے کہا میں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ اور اللہ نے سکھادئے آدم کو سارے نام، پھر ان کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اگر تم سچے ہو تو مجھے ان لوگوں کے نام بتاؤ“۔ (30:2-31)

اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ وہ زمین کو اس آزاد مخلوق کے چارج میں دے دے، اُس وقت فرشتوں نے یہ شبہہ ظاہر کیا کہ آزادی پا کر انسان زمین پر فساد کرے گا اور خون بہائے گا۔ فرشتوں کا یہ شبہہ بے بنیاد نہ تھا۔ خود قرآن کے بیان سے ثابت ہے کہ فی الواقع ایسا ہی ہوا۔ ساتویں صدی کے ربع اول میں جب قرآن اترا تو اللہ تعالیٰ نے اس میں یہ آیت شامل فرمائی: ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ (30:41) یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب سے۔ یہاں یہ سوال ہے کہ جب بطور واقعہ وہی ہوا جس کا شبہہ فرشتوں نے ظاہر کیا تھا، تو پھر اللہ نے اولاد آدم کو کیوں پیدا کیا اور کیوں اُن کو زمین پر بسنے کا موقع دیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، آدم کی پیدائش سے لے کر ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول تک جب کہ قرآن نازل ہوا، ہر قوم اور ہر بستی میں مسلسل طور پر اللہ کی طرف سے نذیر (بتانے والے) آتے رہے، اس کے باوجود آدم کی بعد کی نسلوں میں پیدا ہونے والے لوگوں کی اکثریت مفسد ثابت ہوئی، حتیٰ کہ پوری تاریخ فساد سے بھری ہوئی تاریخ بن گئی۔ ایسی حالت میں یہ سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیوں پیدا کیا۔ اس سوال کا جواب قرآن کی مذکورہ آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔ قرآن کی ان آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے آدم کو اُن کی اولاد کے نام (أسماء) بتائے۔ یہاں علم اسماء سے مراد علم مسمیات ہے۔ یہاں اسم سے مراد افراد کے نام (names) نہیں، بلکہ یہاں اسم سے مراد مُسَمّٰی (named) ہے، یعنی نام سے موسوم افراد۔ دوسری بات یہ کہ اُس وقت آدم کے سامنے اللہ نے اُن کی اولاد کے جن لوگوں کو پیش کیا، وہ پوری ذریت آدم یا پورا مجموعہ انسانی نہ تھا۔ کیوں کہ

‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues

Printed page