تخلیق انسانی کا مقصد
الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۳۹
طور پر شروع کرتا ہے۔ آغاز میں یہ م بظاہر پرامن طور پر شروع ہوتا ہے، لیکن جب پرامن ذریعہ ناکام ہو جاتا ہے تو اس کے بعد دھیرے دھیرے قائم شدہ حکومت کے خلاف تشدد شروع ہو جاتا ہے، پھر جب تشدد سے بھی مطلوب کا کامیابی حاصل نہیں ہوتی تو اس کے بعد آخری چارہ کار کے طور پر خود کش بم باری شروع کردی جاتی ہے۔ اجتماعی انقلاب کا نتیجہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کر صرف اجتماعی ہلاکت بن کر رہ جاتا ہے۔ اس معاملے میں تباہ کن ناکامی کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی انقلاب کا نظریہ اپنے آپ میں ایک غیر فطری نظریہ ہے۔ وہ خالق کے تخلیقی نقشہ کے خلاف ہے، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں کوئی ایسا نظریہ کبھی مثبت نتیجہ پیدا نہیں کر سکتا جو خالق کے تخلیقی نقشہ کے خلاف ہو۔ خالق کا نقشہ تخلیق خالق کا نقشہ تخلیق (creation plan) کیا ہے۔ اس کو جاننے کا واحد مستند ذریعہ صرف قرآن ہے۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ خالق نے انسان کو جس نقشے کے مطابق، پیدا کیا ہے، وہ کسی مفروضہ اجتماعی نظام پر مبنی نہیں ہے، وہ تمام تر انفرادی اصلاح کے تصور پر مبنی ہے۔ خالق نے دنیا میں اپنی اسکیم کو بروئے کار لانے کے لیے ہر دور میں پیغمبر بھیجے۔ ان تمام پیغمبروں کا نشانہ دعوت ہمیشہ فرد (individual) ہوا کرتا تھا، نہ کہ کسی قسم کا سوشیو پولیٹکل سسٹم (socio-political system) خالق کا اپنے تخلیقی نقشے کے مطابق، اصل کنسرن (concern) یہ نہیں ہے کہ دنیا میں اجتماعی سطح پر کوئی آئیڈیل نظام بنایا جائے ۔ خالق کا نشانہ فر دسازی ہے، مجتمع سازی نہیں، کیوں کہ تخلیقی نقشے کے مطابق، مجتمع سازی آئیڈیل معنوں میں ممکن ہی نہیں۔ آئیڈیل نظام یا آئیڈیل سماج صرف جنت میں قائم ہو سکتا ہے۔ موجودہ دنیا کی حیثیت انتخابی میدان (selection ground) کی ہے۔ خالق کی منشا یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں ایسے اعلیٰ افراد چنے جائیں جو آخرت کی ابدی جنت میں بسائے جانے کے مستحق ہوں۔ اس معاملے کو سمجھنے کے لیے قرآن کی سورہ البقرہ کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں قرآن کی متعلق آیتوں کا ترجمہ حسب ذیل ہے: " اور جب تیرے رب نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں ۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues