دہشت گردی کا مسئلہ
الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۴۴
جارج ملک نے بالقصد جارحانہ کارروائی کا معاملہ کیا ہے۔
اسلام کے مطابق ظلم یا دشمنی کے حوالے سے ایک قائم شدہ حکومت بھی کسی کے خلاف جنگ نہیں چھیڑ سکتی۔ اگر کسی حکومت کو یہ شکایت ہو کہ اس کے خلاف کسی کی طرف سے دشمنی کا عمل کیا جارہا ہے، تب بھی اس کو پرامن حدود میں رہ کر اپنی جوابی تدبیر کرنا چاہیے۔ ظلم یا دشمنی کا حوالہ کسی حکومت کو یہ جواز فراہم نہیں کرتا کہ وہ اس کے خلاف مسلح کارروائی شروع کر دے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ (34 :41) یعنی بھلائی اور برائی دونوں یکساں نہیں ہیں۔ تم برائی کو اُس چیز سے دفع کرو جو زیادہ ہرتر ہے، تو تم دیکھو گے کہ وہی شخص جس کے اور تمھارے درمیان عداوت ہے، گویا وہ ایک سرگرم دوست بن گیا ہے۔
قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمنی اور دوستی دونوں اضافی الفاظ ہیں۔ خالق نے ہر انسان کو فطرتِ سلیم پر پیدا کیا ہے۔ بظاہر اگر کوئی شخص ظلم یا دشمنی کرتا ہوا نظر آئے تو اس کو بھی بالقوۃ دوست (potential friend) کے روپ میں دیکھنا چاہیے۔ اپنی طرف مثبت روش کے ذریعے یہ کوشش کرنا چاہیے کہ بالقوۃ دوست آپ کا بالفعل دوست (actual friend) بن جائے۔ قرآن کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: الصلح خير (4:128) یعنی مصالحت کا طریقہ بہترین طریقہ ہے۔ اسی طرح حدیث رسول میں آیا ہے کہ: إن الله يعطي على الرفق، مالا يعطي على العنف (صحیح مسلم، رقم الحديث: 2593) یعنی اللہ نرمی پر وہ دیتا ہے جو وہ سختی پر نہیں دیتا۔
’صلح‘ اور ’رفق‘ کو ایک لفظ میں امن (peace) کہہ سکتے ہیں۔ اسلام میں امن پر بہت زور دیا گیا ہے۔ اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ بہ حال میں امن کا طریقہ اختیار کرو، خواہ امن قائم کرنے کے لیے تم کو یک طرفہ صبر کا طریقہ اختیار کرنا پڑے ۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ میں صلح حدیبیہ اسی قسم کی تدبیر امن کی ایک واضح مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسلام میں امن کو اتنی زیادہ اہمیت
‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues