Al-Risala · June 2014 · page 48

ردِ عمل کی سیاست

الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۴۸

جو اس معاملے میں رہنما اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ قرآن کی سورہ آل عمران میں اسی قسم کی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے، فطرت کا یہ اصول بتایا گیا تھا: تلک الأيام نداولها بين الناس (2:140) یعنی سیاسی اقتدار کسی ایک گروہ کی اجارہ داری (monopoly) نہیں، سیاسی اقتدار کبھی ایک گروہ کے پاس رہے گا اور کبھی دوسرے گروہ کے پاس۔ دوسرے لفظوں میں، یہ کہ جب سیاسی اقتدار میں تبدیلی ہو، تو اس کے خلاف ردِ عمل کرنا کوئی صحیح پالیسی نہیں۔ قرآن کی اس تعلیم کا مقصد خود سپردگی اور پسپائی نہیں ہے، وہ دراصل ایک اعلیٰ حکمت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ منفی ردِ عمل کے بجائے، مثبت منصوبہ بندی کے ذریعے صورتِ حال کا مقابلہ کیا جائے۔ جب بھی سیاسی اقتدار میں تبدیلی ہوتی ہے، تو وہ صرف تبدیلی کے ہم معنیٰ نہیں ہوتی، بلکہ اسی کے ساتھ وہ نئے مواقع کے ظہور کے ہم معنیٰ ہوتی ہے۔ یہ فطرت کا نظام ہے، جو خدا نے قائم کیا ہے۔ جب بھی کوئی قوم دیر تک اقتدار کی حالت میں رہے، تو اس کے اندر جمود پیدا ہو جاتا ہے۔ اس کی تخلیقی صلاحیت (creativity) ختم ہو جاتی ہے۔ ایسی حالت میں سیاسی تبدیلی دراصل اس لیے ہوتی ہے کہ اُس قوم کے جمود (stagnation) کو توڑا جائے۔ چیلنج کی صورت حال پیدا کر کے اُس کے اندر نئی بیداری لائی جائے۔ ہر گروہ لمبے اقتدار کے بعد ایک غیر تخلیقی گروہ (uncreative group) بن جاتا ہے۔ سیاسی اقتدار میں تبدیلی دراصل اس لیے ہوتی ہے کہ اس کو دوبارہ ایک تخلیقی گروہ (creative group) بنایا جائے۔

مسلم رہنما اگر فطرت کے اس قانون (law of nature) کو سمجھتے، تو ان کے لیے صحیح طریقہ یہ تھا کہ وہ ردِ عمل کا طریقہ اختیار نہ کریں، بلکہ اُس کو وہ اپنے لیے ایک چیلنج سمجھیں اور مثبت ذہن کے تحت، پر امن طور پر وہ اس کا سامنا کریں، جیسا کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد جاپان نے امریکا کے مقابلے میں کیا اور کامیابی حاصل کی۔ مگر مسلم رہنما اس راز کو نہ سمجھ سکے۔ وہ منفی ردِ عمل کا شکار ہو گئے اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اس دنیا میں مثبت ردِ عمل کا نتیجہ مثبت صورت میں نکلتا ہے، اور منفی ردِ عمل کا نتیجہ منفی صورت میں۔ یہ فطرت کا ایک ابدی قانون ہے، اس میں کسی بھی گروہ کا کوئی استثنا نہیں۔ (2009)

‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues

Printed page