ردِ عمل کی سیاست
الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۴۷
اسی درمیان 1948 میں فلسطین میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ یہ مسلمانوں کے لیے بے حد ناقابل برداشت تھا۔ بال فور ڈکلریشن کے مطابق، یہودیوں کو محدود کوٹا سسٹم (limited quota system) کے تحت فلسطین کے ایک علاقے میں واپسی کی اجازت دی گئی۔ اصولاً یہ کوئی غلط فیصلہ نہ تھا۔ کیوں کہ یہ یہودی دراصل ڈائس پورا (diaspora) سے تعلق رکھنے والے تھے۔ اور ڈائس پورا سے تعلق رکھنے والے یہودیوں کی فلسطین واپسی خود قرآن (5:21) کے مطابق، اصولاً درست تھی، لیکن مسلمان جو پہلے سے نوآبادیاتی مسئلے کی بنا پر مغربی قوموں سے برہم تھے، وہ مزید شدت کے ساتھ جنگ پر آمادہ ہوگئے۔ سیاسی جہاد کی یہ تحریکیں ابتداء پر امن انداز میں شروع کی گئیں، لیکن پرامن انداز جب پیش نظر مقصد کے لیے مفید ثابت نہیں ہوا، تو جہاد کے نام پر مسلح تحریک شروع کردی گئی۔ مگر رہنماؤں نے دوبارہ یہ دیکھا کہ مسلح جہاد سے بھی وہ اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہورہے ہیں، تو اس کے بعد انھوں نے خودکش بم باری (suicide bombing) کا طریقہ اختیار کر لیا۔ خودکش بم باری بلا شبہ اسلام میں حرام تھی، لیکن مسلم رہنماؤں نے اُسے استشهاد (طلب شہادت) کا نام دے کر اپنے لیے اس کو بطور خود جائز قرار دے دیا۔
اکیسویں صدی کے آغاز میں جو صورتِ حال ہے، وہ یہ کہ مسلح جہاد اور خودکش بم باری کے باوجود، مسلم رہنما اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ مسلح جہاد عملاً کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوا ہے۔ اس نام نہاد جہاد کے ذریعے مسلمان کچھ حاصل تو نہ کر سکے، البتہ جو کچھ انھیں حاصل تھا، اس کو بھی انھوں نے کھو دیا۔ اس معاملے کو خالص اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے، تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ مسلم رہنماؤں کا ردِ عمل، خواہ وہ نو آبادیاتی نظام کے خلاف ہو، یا اسرائیل کے خلاف، وہ اسلام سے انحراف کا نتیجہ تھا، نہ کہ اسلام کی پیروی کا نتیجہ۔ اس معاملے میں مسلم رہنماؤں کی تحریکیں صحیح ڈائرکشن سے ہٹی ہوئی تھیں، وہ فطرت کے قانون کی خلاف ورزی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ بے شمار جانی اور مالی قربانیوں کے باوجود انھیں اپنے مطلوب مقصد میں کوئی کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ اس معاملے کو قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے، تو قرآن میں ایک واضح آیت موجود ہے،
‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues