شخصیت کی پہچان
الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۵۰
شخصیت کی پہچان
امام مالک نے اپنی کتاب الموطا میں ایک باب کے تحت یہ روایت نقل کی ہے۔ باب کا عنوان ہے: باب ما جاء فی التقی۔
قال مالك: وبلغني أن القاسم بن محمد كان يقول : أدركت الناس ما يعجبون بالقول - قال مالك : يريد بذلك العمل - إنما ينظر إلى عمله، ولا ينظر إلى قوله - یعنی مالک نے کہا کہ مجھ کو قاسم بن محمد تابعی کے بارے میں یہ بات پہنچی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میں نے ایسے لوگ (صحابہ) پائے ہیں جن کا حال یہ تھا کہ وہ قول پر خوش یا متعجب نہیں ہوتے تھے۔ مالک نے کہا کہ اس سے ان کی مراد عمل تھا۔ بے شک کسی انسان کا عمل دیکھا جائے گا، اس کا قول نہیں دیکھا جائے گا۔
اس روایت میں ایک اہم حقیقت کو بتایا گیا ہے، وہ یہ کہ انسان کا قول اس کی پہچان نہیں ہے۔ کسی انسان کی حقیقی پہچان وہ ہے جو عملی تجربے کے بعد سامنے آئے۔ کسی شخص کے قول میں اس کی حقیقی شخصیت ظاہر نہیں ہوتی۔ لوگوں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ جب کسی بات کو کہتے ہیں تو وہ اس کو کہتے ہوئے اپنے موافق بات کو مبالغے کے ساتھ بیان کرتے ہیں، اور جو بات ان کے لیے غیر موافق ہے، اس کو وہ یا تو بیان نہیں کرتے یا گھٹا کر بیان کرتے ہیں۔ کسی بات کے ایک پہلو کو بڑھا کر بتانا اور اس کے دوسرے پہلو کو کم کر کے بتانا، یہ ایک ایسی عادت ہے جو تقریبا ہر انسان میں ہوتی ہے۔ اسی عادت کے ذریعے وہ اپنی حقیقی شخصیت کو چھپائے رہتا ہے۔
کسی انسان کی حقیقی شخصیت صرف اُس وقت سامنے آتی ہے جب کہ وہ ٹسٹ (test) پر آجائے۔ آدمی قول میں اپنی شخصیت کو چھپا سکتا ہے، لیکن عملی تجربے میں اپنی حقیقی شخصیت کو چھپانا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ دانش مند وہ ہے جو کسی شخص کے بارے میں اس کے حقیقی عمل کو دیکھ کر رائے بنائے، نہ کہ اس کی خوش نما تحریر و تقریر کو سن کر۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues