Al-Risala · June 2014 · page 51

اپنی تاریخ سے کٹنا

الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۵۱

اپنی تاریخ سے کٹنا

مولانا شبلی نعمانی نے 1913 میں اعظم گڑھ (یوپی) میں دار المصنفین کا ادارہ قائم کیا۔ اس کے چند دنوں کے بعد 18 نومبر 1914 کو 57 سال کی عمر میں اُن کا انتقال ہو گیا۔ مولا نا شبلی نعمانی نے اپنے آخری دنوں میں اپنے شاگرد مولا نا سید سلیمان ندوی کو بلا یا اور اُن کو دار المصنفین کا پورا چارج دے دیا۔

مولانا سید سلیمان ندوی نے پوری سنجیدگی اور انہماک کے ساتھ دار المصنفین کا کام کیا اور دار المصنفین کے بارے میں مولانا شبلی کے خواب کو واقعہ بنایا۔ بعد کو اپنے بعض ساتھیوں سے اُن کا اختلاف ہوا، یہاں تک کہ دل برداشتہ ہو کر 1946 میں انھوں نے دار المصنفین کو چھوڑ دیا۔ وہ پہلے بھوپال اور پھر پاکستان چلے گئے۔ دار المصنفین چھوڑنے کے 7 سال بعد 23 نومبر 1953 کو 69 سال کی عمر میں پاکستان (کراچی) میں ان کا انتقال ہو گیا۔ یہ 7 سال جو مولانا سید سلیمان ندوی نے دار المصنفین سے باہر گزارے، وہ بلاشبہہہ ان کی زندگی کے سب سے زیادہ قیمتی سال تھے۔ مگر یہ قیمتی سال اپنی تاریخ چھوڑنے کی وجہ سے ضائع ہو گئے، وہ حقیقی طور پر استعمال نہ ہو سکے۔ مولانا سید سلیمان ندوی جب دار المصنفین کو چھوڑنے کا ارادہ کر رہے تھے، اُس وقت دار المصنفین میں اُن کے ایک ساتھی شاہ معین الدین احمد ندوی (وفات: 1974) موجود تھے۔ وہ اس سلسلے میں لکھتے ہیں کہ: ”سید صاحب مہینوں اس کے بارے میں کش مکش میں مبتلا رہے۔ راقم سے بھی انھوں نے رائے پوچھی۔ میں نے عرض کیا کہ کسی ادارے کے بانی کو اُسے چھوڑ کر دوسری جگہ جانے کی یہ پہلی مثال ہوگی۔ فرمایا: یہ تو صحیح ہے، مگر دار المصنفین میں سکون کے ساتھ رہنے کی شکل کیا ہے۔ اس کا کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا“۔ (حیات سلیمان، از: شاہ معین الدین احمد ندوی، صفحہ 515) شاہ معین الدین احمد ندوی نے دار المصنفین نہ چھوڑنے کا جو مشورہ دیا، وہ بلاشبہ اپنے آپ میں ایک درست مشورہ تھا، لیکن مشورہ دینے کا جو انداز تھا، وہ موثر نہیں ہو سکتا تھا۔ مولانا سید سلیمان ندوی

‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues

Printed page