انتخابِ اول ، انتخابِ ثانی
الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۵۴
انتخابِ اول ، انتخابِ ثانی
ذاتی زندگی کا معاملہ ہو تو ایک شخص معیار (ideal) کا انتخاب کر سکتا ہے، لیکن اجتماعی زندگی کے معاملے میں کبھی معیار کا انتخاب ممکن نہیں ہوتا۔ اس لیے اجتماعی زندگی کے بارے میں صحیح اصول یہ ہے کہ جب انتخابِ اول (first choice) ممکن نہ ہو تو انتخابِ ثانی (second choice) کو اختیار کر لیا جائے۔
اس اصول کی حکمت یہ ہے کہ انتخابِ اول کو اختیار کرنے کی صورت میں اگر معیار حاصل ہوتا تھا، تو انتخابِ ثانی کی صورت میں امن اور استحکام (stability) حاصل ہو جاتا ہے۔ اجتماعی زندگی کے لیے یہی واحد عملی طریقہ ہے، اس کے سوا کوئی اور طریقہ عملاً ممکن ہی نہیں۔ یہی فطری اصول پیغمبر کی سنت بھی ہے۔ مثلاً ہجرت مدینہ کے وقت فرسٹ چوائس یہ تھا کہ مکہ میں تیرہ سال کی جدوجہد سے جو جزئی کامیابی ہوئی تھی، وہ مزید جدوجہد کے ذریعے مکمل کامیابی تک پہنچے۔ اور سیکنڈ چوائس یہ تھا کہ مکہ چھوڑ دیا جائے، تاکہ ٹکراؤ سے بچ کر پر امن ماحول میں اپنا مشن جاری رکھا جائے۔ اُس وقت پیغمبر نے اپنے لیے سیکنڈ چوائس کو اختیار کر لیا۔ اسی طرح حدیبیہ کے موقع پر فرسٹ چوائس یہ تھا کہ سفر کو جاری رکھتے ہوئے آپ مکہ پہنچیں اور عمرہ کریں۔ اور سیکنڈ چوائس یہ تھا کہ وہ درمیان میں اپنے سفر کو ختم کر کے مدینہ واپس چلے جائیں۔ پیغمبر نے اُس وقت بھی سیکنڈ چوائس کو لینے کا فیصلہ کیا۔
یہی فطرت کا اصول ہے اور یہی پیغمبر کی سنت بھی۔ اس دنیا میں کسی بھی میدان میں کامیابی اسی اصول کو اختیار کر کے حاصل ہو سکتی ہے۔ یہی قدیم زمانے میں بھی ممکن تھا اور یہی موجودہ زمانے میں بھی ممکن ہے۔ فرسٹ چوائس ہمیشہ آدمی کی ذاتی خواہش کے مطابق ہوتا ہے، اس لیے وہ ہمیشہ فرسٹ چوائس پر اصرار کرتا ہے، لیکن یہ طریقہ یقینی طور پر غیر عملی ہے۔ نتیجہ خیز طریقہ صرف یہ ہے کہ حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے آدمی سیکنڈ چوائس پر راضی ہو جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues