اپنی تاریخ سے کٹنا
الرسالہ، جون ۲۰۱۴، صفحہ ۵۳
تھا، اُس کو ادا کیے بغیر وہ اس دنیا سے چلے گئے۔
دارالمصنفین کو چھوڑنے کا جواز مولانا سید سلیمان ندوی نے یہ بتایا تھا کہ دارالمصنفین میں سکون کے ساتھ رہنے کی شکل نہیں۔ مولانا سید سلیمان ندوی کے اس جملے کی حیثیت عذر کی نہیں، بلکہ بے خبری کی ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سیرت نگار تھے۔ یہ بلا شبہ ایک معلوم حقیقت ہے کہ پیغمبر اسلام نے اُس سے بہت زیادہ بے سکونی کے حالات میں کام کیا جو مولانا سید سلیمان ندوی کو دارالمصنفین میں پیش آئے۔ اس کا اندازہ پیغمبر اسلام کی اہلیہ حضرت عائشہ کے اس قول سے ہوتا ہے کہ حطمه الناس (صحیح مسلم، رقم الحدیث: 1215) یعنی لوگوں نے آپ کو روند ڈالا تھا۔
مولانا سید سلیمان ندوی نے پیغمبر اسلام کی سیرت لکھی، مگر اس معاملے میں انھوں نے پیغمبر اسلام کی زندگی سے سبق حاصل نہیں کیا۔ اگر وہ سبق حاصل کرتے تو وہ کبھی ایسی غلطی نہ کرتے کہ بے سکونی کو اپنے لیے عذر بنا لیتے، حالاں کہ بے سکونی سرے سے کوئی عذر ہی نہیں۔ اس دنیا میں بے سکونی کو مینیج (manage) کرنا ہے، نہ کہ اُس کو عذر بنانا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: نعمتان مغبون فيهما كثير من الناس: الصحة والفراغ (صحیح البخاري، رقم الحدیث: 5962)
کوئی ادارہ اپنے آپ میں مقدس نہیں ہوتا۔ کسی ادارے کو چھوڑنا کوئی گناہ کی بات نہیں۔ لیکن ادارے کو چھوڑنے کی دو صورتیں ہیں—ایک ہے ذاتی شکایت (personal grievance) کی بنا پر چھوڑنا، اور دوسرا ہے اصول (principle) کی بنا پر چھوڑنا۔ ذاتی شکایت کی بنا پر ادارے کا چھوڑنا ہرگز درست نہیں، کیوں کہ ذاتی شکایت حقیقتاً فطرت کے نظام کا حصہ ہے، نہ کہ کسی کے ناروا سلوک کا حصہ۔ البتہ اصول کی بنا پر کسی ادارے کو چھوڑنا بلا شبہ جائز ہے، کیوں کہ اصول کا تعلق دین حق سے ہوتا ہے، نہ کہ کسی کی اپنی ذات سے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2014 All issues