Al-Risala · July 2014 · page 4

اعمال کا باطل ہونا

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۴

اعمال کا باطل ہونا

قرآن کی سورہ الکہف میں ایک کردار کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: قُلْ ہَلْ نُنَبِّئُکُمُ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالاً اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَہُمْ یَحْسَبُونَ اَنَّہُمْ یُحْسِنُونَ صُنْعًا (102-18:104) یعنی کہو، کیا میں تم کو بتاؤں کہ اپنے اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ گھاٹے میں کون لوگ ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں اکارت ہو گئی اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔

قرآن کی اس آیت میں دراصل اُس نفسیاتی حالت کا ذکر ہے جس کو موجودہ زمانے میں کنڈیشننگ کہا جاتا ہے۔ جن لوگوں کا کیس کنڈیشنڈ مائنڈ (conditioned mind) کا کیس ہو، اُن کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ اپنے مانوس تصور ہی کو درست سمجھنے لگتے ہیں۔ اپنے اس ذہنی شاکلہ (mind-set) کی بنا پر وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، وہی حقیقت کے اعتبار سے بھی صحیح ہے۔ لیکن آخرت میں ان کے یہ اعمال باطل قرار پائیں گے، یعنی بے نتیجہ ہو جائیں گے۔

اعمال کا باطل ہونا کوئی پراسرار چیز نہیں۔ اِس سے مراد ہے مطلوب نتیجہ حاصل نہ ہونا۔ دنیا میں کسی انسان سے جو چیز مطلوب ہے، وہ یہ کہ اس کے اندر مزکی شخصیت بنے، یعنی وہ شخصیت جو جنت میں داخلے کے قابل ہو۔ ایسے لوگوں کو آخرت میں معلوم ہوگا کہ جو کچھ وہ کرتے رہے، وہ صرف ایک غیر متعلق کام تھا۔ وہ ان کی شخصیت کو مزکی شخصیت بنانے میں کارآمد نہ تھا۔ لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ بطور خود اپنی زندگی کا ایک نشانہ بناتے ہیں۔ وہ اس میں اپنی ساری طاقت لگا دیتے ہیں۔ اُن کا ذاتی خیال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے لیے ایک بہتر مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں، لیکن اچانک موت آتی ہے جو اُن کے پورے محل کو ڈھا دیتی ہے۔ موت کے بعد آدمی اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں اس کی سابقہ کوششیں کچھ بھی اس کے کام نہیں آتیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues

Printed page