Al-Risala · July 2014 · page 5

شکایت، شکایت، شکایت

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۵

شکایت، شکایت، شکایت

قرآن کی سورہ یوسف میں ایک پیغمبر کی زبان سے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: اِنَّمَا اَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِی إِلَى اللَّهِ (12:86) یعنی میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کا شکوہ صرف اللہ سے کرتا ہوں۔ قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مومن کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی انسان یا انسانوں کے کسی گروہ کے خلاف شکایت میں مبتلا ہو جائے۔ اس واضح قرآنی تعلیم کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ تمام مسلمان شکایت کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ ہر ایک نے کوئی دشمن یا ظالم دریافت کر رکھا ہے جس کے خلاف وہ تقریر یا تحریر کی صورت میں شکایت کی زبان استعمال کرتا رہتا ہے۔ یہ ایک عمومی گمراہی ہے جو مشرق سے مغرب تک تمام مسلمانوں میں کم و بیش چھائی ہوئی ہے۔

اس کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے شکایت کو حق وانصاف کے مسئلے سے جوڑ رکھا ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے خلاف ظلم اور دشمنی کا معاملہ کیا جا رہا ہے۔ ایسی حالت میں از روئے انصاف ہم کو حق ہے کہ ہم شکایت کی زبان بولیں۔ یہ ایک جائز کردہ برائی (justified evil) کا معاملہ ہے۔ اسی کی بابت کہا گیا ہے کہ شکایت کا تعلق کسی دوسرے سے نہیں، بلکہ انسان کی اپنی ذات سے ہے۔ شکایت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ انسان کے اندر منفی سوچ آ جاتی ہے اور منفی سوچ بلاشبہ تمام نیکیوں کی قاتل ہے۔ اسی بنا پر اسلام میں دوسروں کے لیے دعوت ہے، دوسرے کے لیے شکایت نہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمان کا کیس ایک لفظ میں و کٹم ہڈ (victimhood) کا کیس ہے۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں عام طور پر زیادتی کے احساس (feeling of victimhood) میں جی رہے ہیں۔ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی اصلاح کا صحیح آغاز یہ ہے کہ اُن کے اس منفی احساس کو بدل کر اُن کے اندر صحیح احساس پیدا کیا جائے۔ یہ صرف اُس وقت ہو سکتا ہے جب کہ مسلمانوں کو ذہنی اعتبار سے اس کے لیے تیار کیا جائے کہ تم جن شکایتوں کو لے کر احساس محرومی میں مبتلا ہو، وہ زندگی کے حقائق ہیں، وہ چیلنج کے واقعات ہیں، نہ کہ ظلم کے واقعات۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues

Printed page