Al-Risala · January 2014 · page

فہم قرآن کی ایک شرط

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴

فہم قرآن کی ایک شرط

فہم قرآن کی ایک ضرورت یہ ہے کہ آدمی عربی زبان جانتا ہو، وہ شانِ نزول کی روایتوں سے واقف ہو، وغیرہ۔ اس طرح کی باتیں بلاشبہ قرآن کو سمجھنے کے لیے ضروری ہیں۔ لیکن یہ قرآن فہمی کا ابتدائی درجہ ہے۔ قرآن فہمی کا دوسرا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ قاری کے اندر وہ چیز پیدا ہو چکی ہو جس کو تیار ذہن (prepared mind) کہا جاتا ہے۔ ابتدائی درجے کا فہم قرآن بھی مفید ہے، لیکن فہم قرآن کا اعلیٰ درجہ صرف اُس شخص کے حصے میں آتا ہے جو تیار ذہن کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرے۔ اس ذہنی تیاری کو قرآن فہمی کی پیشگی شرط (pre-condition) کہا جا سکتا ہے۔ یہ ذہنی تیاری مطالعہ اور غور وفکر اور تبادلہ خیال (discussion)، وغیرہ کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اس طرح کی ذہنی سرگرمیوں کے ذریعے آدمی کو مزید معلومات حاصل ہوتی ہیں جو قرآن کی آیتوں کو سمجھنے میں مددگار بنتی ہیں، اس سے آدمی کے اندر ایک ذوق (taste) ڈیولپ (develop) ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے آدمی کے اندر ایک پرکھ پیدا ہوتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی کا ذہن ذوقی طور پر یہ بتاتا رہتا ہے کہ کسی آیت کا کیا مطلب درست ہے اور کیا مطلب درست نہیں۔ معروف قرآنی علوم آدمی کو صرف قرآن فہمی کے فنی پہلوؤں سے آگاہ کرتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں، ذہنی تیاری آدمی کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ معرفت کے پہلو سے قرآن کے گہرے معانی (deep meanings) کا ادراک کر سکے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ تیار ذہن والا آدمی قرآن کے ربانی پہلوؤں کا ادراک کر لیتا ہے۔ ایسے آدمی کو قرآن میں حب الہی اور خشیت الہی کی غذا ملنے لگتی ہے۔ اُس کے اندر وہ صفت پیدا ہوتی ہے جس کو ذہنی ارتقا کہا جاتا ہے، اُس کے لیے قرآن کا مطالعہ اللہ سے ملاقات کا لمحہ بن جاتا ہے۔ ایسے آدمی کے لیے قرآن کا مطالعہ ایک تخلیقی مطالعہ (creative study) ہوتا ہے، جو اُس کے لیے قرآن میں نئے نئے معانی کی دریافت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page