Al-Risala · January 2014 · page

امت کا زوال

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۴

امت کا زوال

حضرت ابو امامہ الباہلی کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لَیَنقُضَنَّ عری الإسلام عروة عروة - فكلما انتقضت عروة، تثبت الناس بالتي تليها - وأولهن نقضا الحكم، وآخر هن الصلاة (مسند احمد: 251/5) یعنی اسلام کے حلقے (زنجیر) ٹوٹتے رہیں گے، ایک کے بعد دوسری کڑی۔ جب ایک کڑی ٹوٹے گی تو لوگ باقی ماندہ کڑی سے جڑ جائیں گے۔ پہلی کڑی جو ٹوٹے گی، وہ ’الحکم‘ ہے اور آخری کڑی جو ٹوٹے گی، وہ الصلاة ہے ۔

حُکم (اقتدار) اور صلاۃ (نماز) دونوں کا ایک ڈھانچہ (form) ہے اور ایک اس کی روح (spirit)۔ اس حدیث میں جس چیز کے ٹوٹنے کا ذکر ہے، وہ حکم اور صلاۃ کی اسپرٹ ہے، نہ کہ اس کا ظاہری فارم، کیوں کہ کسی بھی امت میں ان چیزوں کی صرف داخلی اسپرٹ مفقود ہوتی ہے، نہ کہ اس کا ظاہری ڈھانچہ۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ فطرت کے قانون کے مطابق، جب امت مسلمہ پر زوال آئے گا تو ایسا نہیں ہوگا کہ وہ صفحۂ ہستی سے مٹ جائے، بلکہ یہ ہوگا کہ بظاہر اس کا ڈھانچہ تو موجود ہوگا، مگر داخلی حقیقت مفقود ہو چکی ہوگی۔

گویا اسلام کا قشر (چھلکا) موجود ہوگا، لیکن اسلام کا مغز موجود نہ ہوگا۔ مثلاً ظاہری اعتبار سے، مسلم حکومت موجود ہوگی، لیکن اقامتِ عدل موجود نہ ہوگا، جو کہ حکومت کا اصل مقصود ہوتا ہے۔ اسی طرح نماز کا ظاہری ڈھانچہ تو موجود ہوگا، لیکن نمازیوں کے اندر خشوع کی کیفیت موجود نہ ہوگی، جو کہ نماز کی اصل حقیقت ہے۔ اسی طرح بظاہر دین کے نام پر بہت سی سرگرمیاں جاری ہوں گی، لیکن یہ سرگرمیاں قومی کلچر کی سرگرمیاں ہوں گی، نہ کہ حقیقی معنوں میں دین خداوندی کی سرگرمیاں۔ کوئی امت کبھی ظاہری معنوں میں نہیں مٹتی- دورِ زوال میں جو واقعہ پیش آتا ہے، وہ صرف یہ ہوتا ہے کہ معنوی اعتبار سے، امت کمزور یا بے روح ہو جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2014 All issues

Printed page