Al-Risala · July 2014 · page 6

دعوت عام کا حکم

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۶

دعوت عام کا حکم

قرآن کی سورہ الانعام میں ارشاد ہوا ہے: وَأُوحِيَ إِلَيَّ هَذَا الْقُرْآنُ لِأُنْذِرَكُمْ بِهِ وَمَنْ بَلَغَ (6:19) یعنی کہو کہ میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے، تا کہ میں بھی اس کے ذریعے سے تم کو ڈراؤں، اور وہ بھی ڈرائیں جن کو یہ قرآن پہنچے۔ مولانا امین احسن اصلاحی (وفات: 1998) نے اس آیت کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے: ”عام طور پر مفسرین نے ’ومن بلغ‘ کو ضمیر منصوب پر معطوف مانا ہے، یعنی یہ قرآن اس لیے مجھ پر وحی کیا گیا ہے کہ میں اس کے ذریعے سے تم کو اور اُن سب کو بیدار اور ہوشیار کروں جن تک یہ پہنچے۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ ضمیر متکلم پر معطوف ہے، یعنی میں اس کے ذریعے سے تم کو خبردار کروں اور جن کو یہ پہنچے۔ لیکن ہمارا خیال یہ ہے کہ یہ ضمیر متکلم پر معطوف ہے، یعنی میں اس کے ذریعے سے تم کو خبردار کروں اور جن کو یہ پہنچے، وہ بھی اپنی اپنی جگہ پر اس کے ذریعے سے لوگوں کو خبردار کریں“۔ (تدبر قرآن، جلد 3، صفحہ 31)۔ مذکورہ آیت کی یہ تفسیر بالکل درست ہے۔ اس آیت میں ایک اہم دعوتی مسئلہ بیان ہوا ہے، وہ یہ کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح اپنے معاصر انسانوں پر دعوت و تبلیغ کی ذمے داری ادا فرمائی، اسی طرح امت محمدی کے بعد کے لوگوں پر یہ فرض ہے کہ وہ ہر زمانے میں اپنے ہم عصر انسانوں پر دعوت و تبلیغ کی ذمے داری نسل در نسل ادا کرتے رہیں۔ دعوت و تبلیغ کی ذمے داری ایک ابدی ذمے داری ہے۔ امت محمدی کی بعد کی نسلوں پر یہ ذمے داری ٹھیک اُسی طرح عائد ہوتی ہے جس طرح وہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا کی طرف سے عائد کی گئی تھی۔ دعوت و تبلیغ کی ذمے داری ایک ایسی ذمے داری ہے جو کبھی اور کسی حال میں ساقط نہیں ہو سکتی۔

دعوت کا یہ مسئلہ جس طرح قرآن میں مذکور ہے، اسی طرح وہ حدیث میں بھی بیان ہوا ہے۔ چناں چہ حجۃ الوداع کے موقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو، اور نیابۃ پوری امت کو، خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مجھے اللہ نے تمام انسانوں کی طرف بھیجا ہے۔ تم میری طرف سے میرا پیغام تمام لوگوں تک پہنچادو۔ اسی طرح آپ نے فرمایا تھا کہ جو لوگ یہاں موجود ہیں، وہ میرا پیغام اُن لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں موجود نہیں ہیں (فليبلغ الشاهد الغائب)۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues

Printed page