مبنی بر فرد منصوبہ تخلیق
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۸
مبنی بر فرد منصوبہ تخلیق
انسانی تاریخ (human history)، اپنے آغاز سے لے کر اپنے انجام تک، ایک بامعنی تسلسل (meaningful continuation) ہے۔ انسانی تاریخ آدم اور حوا کی تخلیق سے شروع ہوئی۔ آخر میں یہ ہوگا کہ پوری تاریخ میں بکھرے ہوئے منتخب افراد(selected persons) کو یکجا کر کے جنت کی پرامن کالونیوں میں بسادیا جائے گا، جہاں وہ ہر قسم کے خوف اور اندیشے سے محفوظ ہو کر زندگی گزاریں گے اور کبھی اس سے نکلنا نہ چاہیں گے۔
عام طور پر لوگوں کی نظر میں تاریخ کی منفی تصویر ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ تاریخ کو اپنے خود ساختہ ماڈل کے اعتبار سے دیکھتے ہیں، وہ تاریخ کو خالق کے نقشۂ تخلیق (creation plan) کی نسبت سے نہیں دیکھتے۔ لوگ تاریخ کو مبنی بر نظام ماڈل (system-based model) کے اعتبار سے دیکھتے ہیں، جب کہ خالق نے موجودہ دنیا کو افراد کے انتخابی مقام (selection ground) کے اعتبار سے بنایا ہے۔
موجودہ دنیا میں ہر فرد حالتِ امتحان میں ہے۔ جو فرد امتحان میں پورا اترتا ہے، وہ خالق کی انتخابی فہرست میں آ جاتا ہے۔ خالق کا تخلیقی منصوبہ مبنی بر فرد(individual-based) ہے، نہ کہ مبنی بر مجموعہ (mass-based)۔ خالق کا نشانہ پورا مجموعہ انسانی نہیں ہے، بلکہ وہ استثنائی افراد ہیں جو مختلف قسم کے امتحانی حالات سے گزرتے ہوئے اپنے آپ کو مطلوب ربانی انسان کی حیثیت سے تیار کریں۔ موجودہ دنیا میں انسانی سرگرمیاں اور خالق کا منصوبہ دونوں متوازی طور پر ساتھ ساتھ چل رہے ہیں۔ خالق، انسان کی آزادی کو منسوخ کیے بغیر، تاریخ کو اس طرح منیج (manage) کر رہا ہے کہ انسان کے لیے آزادی اختیار (freedom of choice) کا موقع پوری طرح باقی رہے اور اسی کے ساتھ تاریخ میں ربانی تہذیب کا ڈیولپمنٹ بھی مسلسل طور پر جاری رہے۔
اس دو طرفہ عمل (two-fold process) میں بظاہر انسانی سرگرمیوں کے واقعات غالب
‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues