Al-Risala · July 2014 · page 12

عوامی جذبات کا استحصال

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۱۲

عوامی جذبات کا استحصال

حضرت ابو ذر غفاری کی ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر الدجال أخوف علی أمتي (مسند احمد: 145/5) یعنی میں اپنی امت پر دجال سے بھی زیادہ ایک اور چیز سے ڈرتا ہوں۔ پوچھا گیا کہ اے خدا کے رسول، وہ کیا چیز ہے جس سے آپ اپنی امت کے اوپر دجال سے زیادہ ڈرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ گمراہ کرنے والے لیڈر (الأئمہ المضلین)۔ اس حدیث میں دجال کا حوالہ بتاتا ہے کہ یہ گمراہ کرنے والے رہنما دجال کے زمانے میں ظاہر ہوں گے۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد جدید میڈیا اور جدید کمیونیکیشن کا زمانہ ہے۔ ان ذرائع کی بنا پر یہ ممکن ہو جائے گا کہ زیادہ بڑے پیمانے پر لوگوں کو ایڈریس کیا جائے اور اس طرح غلط رہنمائی (mislead) کر کے اُن کو بھٹکا دیا جائے۔ موجودہ زمانے میں اپوزیشن کی سیاست (politics of opposition) اسی کی ایک مثال ہے۔ اس سیاست کی سب سے زیادہ تباہ کن صورت وہ ہے جس کو اینٹی انکمبنسی فیکٹر (anti-incumbency factor) کو استعمال کرنا کہا جاتا ہے، یعنی حکمرانوں کے خلاف شکایتوں کو لے کر جذباتی تحریکیں چلانا اور اس طرح عوام کی بھیڑ اکٹھا کر کے حکمرانوں کو اقتدار سے بے دخل کر دینا۔ سیکولر جماعتوں کی کامیابی کا راز بھی یہی منفی سیاست ہے اور نام نہاد اسلامی جماعتوں کی کامیابی کا راز بھی یہی منفی سیاست۔ موجودہ زمانے کے سیاست پسند رہنماؤں کا حال یہ ہے کہ وہ اسلامی جماعت کے نام پر ایک پارٹی بنائیں گے اور پھر حکمرانوں کی کمیوں کو تلاش کر کے وہ اُن کے خلاف دھواں دھار تحریکیں چلائیں گے۔ اس کے بعد جب وہ بظاہر سیاسی کامیابی حاصل کر لیں گے تو وہ کہیں گے کہ اسلام جیت گیا، حالاں کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، یہ ایک اسلامی سیاست کی جیت ہوتی ہے، نہ کہ اسلام کی جیت۔ یہ کامیابی عوامی جذبات کے استحصال (exploitation) کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے، نہ کہ حقیقتاً دین خداوندی کے احیا کی بنیاد پر۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues

Printed page