اولاد کا فتنہ
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۱۱
اولاد کا فتنہ
یوپی کے ایک مسلمان دہلی میں آکر آباد ہوئے۔ انھوں نے پراپرٹی کا بزنس کیا۔ انھوں نے اس بزنس میں کافی دولت کمائی۔ مگر اُن کے یہاں کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی۔ ایک بار ان کی ماں دہلی آئیں ۔ انھوں نے دیکھا کہ ان کا بیٹا دہلی میں ایک بڑے گھر میں رہتا ہے۔ دنیا کی ہر چیز اس کے پاس ہے، مگر شادی کو کافی عرصہ گزرنے کے باوجود اُن کے یہاں اولاد نہیں ہوئی ۔ اُن کی ماں اس بات پر کافی پریشان ہوئیں۔ وہ اکثر کہتی تھیں کہ— ہائے میرے بیٹے کی دولت کون لے گا۔ اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ قرآن میں اولاد کو فتنہ (64:15) کیوں کہا گیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ لوگ اپنے بیٹے کو اپنی ذات کی توسیع (extension) سمجھتے ہیں۔ اُن کو یقین ہوتا ہے کہ اُن کی کمائی ان کے بعد ضائع نہیں ہوگی، بلکہ اپنے بیٹے کی صورت میں بالواسطہ طور پر وہ اُن کو حاصل رہے گی۔
اولاد کے بارے میں اسی تصور کی بنا پر لوگوں کے لیے اولاد ایک فتنہ بن جاتی ہے۔ اس تصور کے تحت جو ذہن بنتا ہے، اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی موت کی سنگینی سے غافل ہو جاتا ہے۔ موت کے بعد کے احوال پر وہ زیادہ سنجیدگی کے ساتھ نہیں سوچتا۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر وہ موت اور موت کے بعد کی حقیقتوں کے معاملے سے بے خبر ہو جاتا ہے۔
اولاد کی اصل اہمیت یہ ہے کہ اُس کے ذریعے نسل انسانی کا بقا وتسلسل جاری رہتا ہے۔ جہاں تک دولت کی بات ہے، وہ باپ کے لیے بھی امتحان کا ایک پرچہ ہے اور بیٹے کے لیے بھی امتحان کا ایک پرچہ ۔ دولت کو اگر اس ذہن کے تحت دیکھا جائے تو دولت کبھی مسئلہ نہ بنے۔ کسی باپ کی طرف سے اپنی اولاد کے لیے بہترین تحفہ یہ ہے کہ وہ تعلیم و تربیت کے ذریعے اس کو اچھا انسان بنائے۔ اسی حقیقت کو ایک حدیثِ رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ما نَحَلَ والد ولده من نُحل أفضل من أدب حسن - (سنن الترمذي، رقم الحديث: 1952)
‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues