قومی فخر نہیں
الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۱۵
وتّقدّم غیرهم (1938) میں مسلماںوں کو دوبارہ عسکری معرکہ آرائی پر ابھارا ہے اور عسکری اقدام کو کامیابی کا راز بتایا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے حسب ذیل شعر نقل کیا ہے:
تأخّرتُ أستبقى الحياة، فلم أجد لنفسى حیاۃً، مثل أن أتّقدّما میں زندہ رہنے کے لیے (میدانِ جنگ) سے پیچھے رہا، لیکن میں نے اپنے لیے کوئی زندگی نہ پائی۔ زندگی تو صرف آگے بڑھنے والوں کے لیے ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض غیر مسلم مصنفین نے دورِ جدید کے مسلم ذہن کی جو تصویر پیش کی ہے، وہ عسکریت (militancy) کی تصویر ہے۔ اس سلسلے میں رام موہن گاندھی نے اقبال کا یہ مصرعہ نقل کیا ہے: ہر مسلمان رگِ باطل کے لیے نشتر تھا اس مصرعے کا انگریزی ترجمہ انھوں نے حسب ذیل الفاظ میں کیا ہے:
For every vein of falsehood, every Muslim was a knife. اس دور کے تمام مسلم رہنما ردّ عمل کی نفسیات کا شکار ہو گئے تھے، اس لیے وہ صرف منفی رُخ پر سوچتے رہے۔ انھوں نے انتہائی غیر دانش مندانہ طور پر یہ کیا کہ غیر مسلم قوموں کو اسلام دشمن قرار دے کر، مسلمانوں کو اُن سے متنفر کر دیا۔ مسلمان اس قابل نہ رہے کہ وہ نئی ابھرتی ہوئی قوموں کے بارے میں مثبت رائے قائم کریں، وہ اُن سے نئی حقیقتوں کو سیکھیں۔
اس نئی صورت حال کے پیش آنے کے بعد، اصل ضرورت یہ تھی کہ مسلمانوں کو بتایا جائے کہ غیر مسلم اقوام کا کیس اُن کے خلاف دشمنی کا کیس نہیں، بلکہ وہ اُن کے لیے چیلنج کا کیس ہے۔ فطرت کے عمومی قانون کے تحت، ان قوموں نے مسلمانوں کو چیلنج دیا ہے، اور اب مسلمانوں کا کام یہ ہے کہ وہ مثبت ذہن کے ساتھ اس کا سامنا کریں۔ وہ پورے معاملے پر نظر ثانی کر کے نئی منصوبہ بندی کے تحت دنیا میں دوبارہ اپنا مقام بنائیں۔ یہی مسلمانوں کی صحیح رہنمائی تھی، مگر منفی نفسیات میں مبتلا رہنما مسلمانوں کو یہ صحت مند رہنمائی دے سکے اور پوری مسلم دنیا منفی سوچ اور غصہ اور نفرت میں مبتلا ہو کر رہ گئی۔ بیسویں صدی کے نصفِ اوّل میں پوری مسلم دنیا میں بڑی تعداد میں مسلم رہنما پیدا ہوئے، مگر
‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues