Al-Risala · July 2014 · page 16

قومی فخر نہیں

الرسالہ، جولائی ۲۰۱۴، صفحہ ۱۶

ان تمام مسلم رہنماؤں کا کیس مشترک طور پر وہی تھا جو اوپر بیان ہوا۔ عرب دنیا میں اس زمانے میں سید جمال الدین افغانی، سید قطب، امیر شکیب ارسلان، وغیرہ نے یہی کام کیا۔ میرے علم کے مطابق، رہنماؤں کی لمبی فہرست میں کوئی بھی اس معاملے میں استثنا (exception) کی مثال نہیں۔ یہ منفی رہنمائی مسلمانوں کو جہاد کے نام پر تشدد تک لے گئی، اور جب مسلمان دوسروں کو ہلاک کرنے پر قادر نہ ہو سکے تو انھوں نے خود کش بم باری (suicide bombing) کے ذریعے خود اپنے آپ کو ہلاک کرنا شروع کر دیا۔

اس صورت حال کا ایک انوکھا ظاہر وہ ہے جس کو میں نظریاتی خود فریبی سے تعبیر کروں گا۔ موجودہ زمانے میں آپ کو بہت سے مسلمان ملیں گے جو یہ کہیں گے کہ ہم کو سید قطب کی تحریروں اور ابوالاعلیٰ مودودی کی کتابوں اور احمد دیدات کے کیسٹس کے ذریعے نیا ایمان حاصل ہوا ہے۔ ان حضرات کے افکار سے ہم کو دوبارہ اسلام ملا ہے، ورنہ ہم اسلام سے دور چلے گیے تھے۔ میں نے ان حضرات کے کیس پر بہت غور کیا۔ میرے نزدیک یہ مسلم رہنما منفی خوراک دیتے ہیں، نہ کہ مثبت خوراک۔ پھر کیسے ایسا ہوا کہ اُن کی باتوں سے کچھ لوگوں کو مثبت اسلام مل گیا۔ اس قسم کے بہت سے لوگوں سے میری ملاقاتیں ہوئیں۔ گہرے جائزے کے بعد آخری طور پر جو بات میری سمجھ میں آئی، وہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو جو چیز ملی ہے، وہ قومی اسلام ہے نہ کہ حقیقی اسلام۔ بیسویں صدی میں بہت سے مسلمان، خاص طور پر مسلم نوجوان، اس احساس میں جی رہے تھے کہ دوسری قوموں نے اُن کا قومی فخر اُن سے چھین لیا ہے۔ مسلح جہاد کے باوجود وہ اپنے اس قومی فخر کو دوبارہ حاصل نہ کر سکے۔ اس دوران میں یہ ہوا کہ کچھ ایسے لوگ نکلے جو الفاظ کی دنیا میں ان کے جذبات فخر کی تسکین فراہم کر رہے تھے۔ کسی نے بتایا کہ مغرب کی سائنسی ترقی مسلم دماغوں کی خوشہ چینی کے ذریعے ہوئی ہے۔ کسی نے مسلمانوں کی سیاسی فتوحات پر کتابیں لکھ کر اُن کو ماضی کی عظمت دوبارہ یاد دلائی۔ کسی نے بتایا کہ اسلام کا نظام دنیا کے تمام نظاموں سے زیادہ اعلیٰ اور برتر (superior) ہے۔ کسی نے بتایا کہ مغربی تہذیب ایک ایسا درخت ہے جو صرف زہریلے پھل دے سکتا ہے۔ کسی نے بتایا کہ مغربی

‹ Previous page Next page › Contents of July 2014 All issues

Printed page